ہر تیسرا, شخص, ذہنی تناؤ, کا شکار ہے

ہر تیسرا شخص ذہنی تناؤ کا شکار ہے

عالمی جذبات کی عکاسی کرنے والی ‘گیلپ گلوبل ایموشنز رپورٹ’ میں لوگوں سے ان کے مثبت اور منفی تجربات کے بارے میں پوچھا گیا تھا

رپورٹ کے مطابق سب سے منفی ملک افریقہ میں واقع چاڈ اور اس کے بعد نائیجر رہا جبکہ سب سے مثبت لاطینی امریکہ کا ملک پیراگوئے رہا۔
پاکستان زیادہ غصہ کرنے والے ممالک کی فہرست میں دسویں نمبر پر آیا۔
محققین نے اس سروے میں شامل افراد کے تجربات پر توجہ مرکوز کی اور وہ تجربات بھی جو انھیں سروے کے دن سے ایک دن پہلے والے دن ہوئے تھے۔
سروے میں شامل افراد سے اس طرح کے سوالات پوچھے گئے کہ کیا گذشتہ روز آپ بہت مسکرائے تھے یا بہت ہنسے تھے؟ اور کیا آپ کے ساتھ لوگ عزت سے پیش آئے تھے؟ یہ سوالات لوگوں کے روزانہ کے تجربات جاننے کے لیے پوچھے گئے تھے۔
تقریباً 71 فیصد لوگوں نے کہا کہ سروے کے دن سے قبل والے دن انھوں نے خاطر خواہ مزا کیا۔

مثبت تجربات والے پانچ سرفہرست ممالک

پیراگوئے
پاناما
گوئٹے مالا
میکسیکو
ایل سلواڈور

منفی تجربات کے حامل پانچ سرفہرست ممالک

چاڈ
نائجر
سیرالیون
عراق
ایران

پاکستان: کبھی خوشی کبھی غم

ہم نے اسی سروے کے حوالے سے ہم نے ٹوئٹر پر پاکستان میں مختلف شخصیات سے یہ سوال پوچھا کہ انھیں غصہ کیوں اور کس وجہ سے آتا ہے۔
اس سوال پر مصنف محمد حنیف نے چھوٹتے ہی جوابی ٹویٹ کی کہ ’سوشل میڈیا پولز (جائزے)‘۔
جبکہ ایک صارف خوشحال کو ’لوڈشیڈنگ‘ پر غصہ آتا ہے، صحافی رمشہ جہانگیر کو ’وٹس ایپ گروپس‘ پر غصہ آتا ہے۔ ویسے ان گروپس سے خوش کون ہے؟
صحافی اور اینکر عاصمہ شیرازی سے جب پوچھا تو ان کا کہنا تھا ’مجھے جھوٹ اور ظلم پر غصہ آتا ہے‘۔
ہداہتکار اور فلمساز عمران رضا کاظمی سے جو پوچھا تو انھوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’بے شک ہم ایک غصے والی قوم ہیں۔‘
اپنے بارے میں انھوں نے کہا ’میرے غصے کا پیمانہ بہت بڑا ہے، میں آسانی سے غصے میں نہیں آتا مگر بدتمیزی سے میرا پارہ چڑھ جاتا ہے۔‘
سابق سینیٹر اور پیپلز پارٹی کے رہنما عثمان سیف اللہ خان نے جواب دیا ’میں غصے میں نہیں آتا مگر بہت ساری چیزوں پر مجھے غصہ آتا ہے جن میں سے ایک غیر ذمہ داری ہے‘۔
اداکار عمران عباس سے جب ہم نے یہ سوال کیا کہ انھیں کس بات پر غصہ آتا ہے تو انھوں نے کہا ’مجھے جھوٹ پر شدید غصہ آتا ہے۔ دوسرا جب لوگ سڑک پر گندگی پھینکتے ہیں تو میں روک کر انھیں منع کرتا ہوں اور جب مجھے یہ سننے کو ملتا ہے کہ یار یہ پاکستان ہے تو بہت برا لگتا ہے۔‘
شہریار ضوان کو ’فیس بُک پر یکسانیت والی پوسٹس‘ پر غصہ آتا ہے جبکہ سپورٹس رپورٹر فیضان لاکھانی کو ’معاشرتی اخلاقیات‘ کے نہ ہونے پر غصہ آتا ہے۔
سیکورٹی ماہر نوبرٹ المیڈا نے ہم سب کے قومی دکھ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ’ہر چیز کی فوٹو کاپیاں فراہم کرنے، شناختی دستاویزات کی کاپیاں اور پھر ایک سرکاری افسر سے تصدیق جو اس بات کی گواہی دیتا ہے مگر واضح طور پر غلط بیانی کر رہا ہوتا کہ کیونکہ وہ نہیں جانتا آپ کہاں سے آئے ہیں۔‘
ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا ’ڈرائیونگ کرنے پر میں غصے سے پاگل ہو جاتا ہوں۔ صرف غصے میں نہیں آتا۔ قوانین کا کوئی نہیں خیال کرتا اور قانون توڑنے کے کوئی نتائج نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

یو پی کے ہندو انتہا پسند وزیراعلیٰ کا ’آگرہ‘ کا نام بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ

یو پی کے ہندو انتہا پسند وزیراعلیٰ کا ’آگرہ‘ کا نام بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ

بھارتی کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے انتہا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے