برطانیہ, میں اعضا کی عدم, دستیابی سے روزانہ, تین افراد موت, کے منہ, میں چلے ,جاتے ہیں

برطانیہ میں اعضا کی عدم دستیابی سے روزانہ تین افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں

لندن: برطانیہ میں انسانی اعضا عطیہ کرنے کا قانون تبدیل کر دیا گیا ، نئے برطانوی قانون کے تحت آئندہ برس سے انتقال کر جانے والے شخص کے اعضا بطور عطیہ اس کے جسم سے نکال لئے جائیں گے ، اگر کوئی شخص اپنے اعضا عطیہ نہ کرنا چاہے تو اسے اسپتال انتظامیہ کو تحریری طور پر آگاہ کرنا ہوگا

برطانیہ میں اعضا کی عدم دستیابی سے روزانہ تین افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
وزارت صحت نے کہا تھا برطانوی حکومت انسانی جان کو بچانے کیلئے مختلف اعضاءکی پیوند کاری کے مسئلے کے حل کیلئے ایک منصوبے پر عمل کررہی ہے، جس کے تحت 2020ءتک ہر شخص کیلئے یہ لازمی قرار دے دیا جائے گا کہ وہ اپنے اعضا ءعطیہ کردیں ، اس پابندی کا اطلاق 80سال سے کم عمر افراد اور دہنی اعتبار سے کمزور لوگوں پر نہیں ہوگا۔
وزارت صحت کا کہنا تھا کہ میکس لا کے نام سے مشہور اس قانون سے ہزاروں لوگ استفادہ کرسکیں گے۔ واضح رہے کہ اس قانون کا نام میکس اس لئے رکھا گیا ہے کہ ویلز کے علاقے کے ایک 12سالہ بچے کی جان کسی رضاکار کی طرف سے دیئے گئے دل سے بچالی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

دبئی ائیر شو 2019 کا آغاز ؛ پاکستان سمیت 160 ممالک کی شرکت

دبئی ائیر شو 2019 کا آغاز ؛ پاکستان سمیت 160 ممالک کی شرکت

دبئی میں سالانہ ائیر شو 2019 کا آغاز ہوگیا ، ائیر شو میں پاکستان سمیت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے