اسپین انتخابات: مخلوط حکومت کا امکان، قدامت پسندوں کے اثر و رسوخ میں اضافہ

اسپین انتخابات: مخلوط حکومت کا امکان، قدامت پسندوں کے اثر و رسوخ میں اضافہ

بارسلونا: انتخابات میں برتری حاصل کرنے والی جماعت کے لیے حکومت سازی کا مرحلہ مشکل ہو گیا ہے، سوشلسٹ پارٹی کو حکومت سازی کے لیے مطلوبہ نشستیں پوری کرنی پڑیں گی۔

تفصیلات کے مطابق اسپین میں گزشتہ روز کے انتخابات کے نتائج کے مطابق سوشلسٹ پارٹی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری ہے تاہم ہو واضح برتری حاصل نہیں کر سکی۔

350 اراکین پر مشتمل ہسپانوی پارلیمنٹ میں سوشلسٹ پارٹی کو 123 نشستیں حاصل ہوئیں، جب کہ دوسری بڑی سیاسی جماعت قدامت پسند پیپلز پارٹی ہے جسے 66 سیٹیں ملی ہیں۔

برتری حاصل کرنے والی پارٹی کے لیے مشکل یہ ہے کہ حکومت سازی کے لیے مطلوبہ نشستوں کی تعداد 176 ہے جس تک پہنچنے کے لیے اسے مزید 53 نشستیں درکار ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم پیدرو سانچیز کو مخلوط حکومت قائم کرنے میں کئی ایام درکار ہو سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق پیدرو سانچیز انتہائی بائیں بازو کی جماعت پوڈیموس اور علاقائی پارٹیوں سے حکومتی تشکیل کی ابتدائی بات چیت شروع کریں گے۔

سوشلسٹ پارٹی کی صدر کرسٹینا ناربونا کا کہنا ہے کہ ابھی کوئی جلدی نہیں اور معاملات کو دیکھ بھال کر آگے بڑھائیں گے۔

خیال رہے کہ الیکشن سے ایک دن قبل سبک دوش ہونے والے سوشلسٹ وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے کہا تھا کہ کل ہونے والے الیکشن میں انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت کو غیر معمولی عوامی تائید حاصل ہو سکتی ہے۔

پائیدار امن کے قیام پر جنوبی کوریا کے صدر کی تاکید

یہ بھی پڑھیں

یو پی کے ہندو انتہا پسند وزیراعلیٰ کا ’آگرہ‘ کا نام بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ

یو پی کے ہندو انتہا پسند وزیراعلیٰ کا ’آگرہ‘ کا نام بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ

بھارتی کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے انتہا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے