پی ٹی ایم کے نام نہاد لیڈرز کس منہ سے فوج سے بدلہ لینے کی بات کرتے ہیں

راولپنڈی:ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ سے نمٹنا مشکل نہیں ہے

پی ٹی ایم کے نام نہاد لیڈرز اس وقت کہاں تھے جب دہشت گرد لوگوں کو ذبح کر رہے تھے ۔ پی ٹی ایم کے الزامات اور سوشل میڈیا پر مہم پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کیا ہم بھارت کی فوج ہیں، ہمارے دلوں میں بھی خون دوڑتا ہے، ہم تو بول بھی نہیں رہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پی ٹی ایم ویب سائٹ پر آرمی چیف، میری جو تصاویر ہے کیا وہ دیکھی؟ کیا تین دن کی جنگ میں محسن داوڑ کنٹرول لائن پر فورسز کے ساتھ کھڑا ہوا، قربانیاں بھی دیں، الزام بھی لگتا ہے، دہشت گردوں کو اسپانسر کرتے ہیں۔

تین مطالبات قبائلی علاقوں میں رہنے والوں کے ہیں جن پر کام ہورہا ہے، منظور پشتین، محسن داوڑ اور علی وزیر جیسے نام نہاد لیڈر تو وہاں رہتے ہی نہیں،یہ کس منہ سے فوج سے بدلہ لینے کی بات کرتے ہیں، جو دوسروں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ان کا وقت ختم ہو چکا۔

میڈیا بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پی ٹی ایم کہتی ہے فوج سے لڑیں گے، کوئی ریاست سے نہیں لڑسکتا، پی ٹی ایم ریاست پاکستان کا حصہ ہے یا افغانستان کا؟،پی ٹی ایم ارمان لونی کا جنازہ پڑھنے گئی، 800 بچوں کی جان بچانے والے دس شہدا کی نماز جنازہ میں تو پی ٹی ایم نے شرکت نہیں کی۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانے کا کام حکومت کرے گی، حکومت نے دینی مدارس قومی دھارے میں لانے کے لیے 2.7 ارب جاری کردئیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اپنی حکومت اور سیکیورٹی فورسز پر اعتماد کریں، ہم نے وہ کام کرنے ہیں، جس سے نظام ٹھیک ہو، کچھ دہشت گرد گروپس اوپن بارڈر کی وجہ سے ایران، پاکستان آجاتے ہیں، ایرانی سرحد پر سیکیورٹی فورسز کی تعداد بڑھا دی ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ اب ہمیں صاحب اور صاحبہ سے آگے نکلنا ہوگا، پاک فوج کی جہاں ضرورت ہوگی ہم مدد دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

آئی ایم ایف کا یہ وفد پاکستان کے دورےمیں اہم ملاقاتیں کرےگا

آئی ایم ایف کا یہ وفد پاکستان کے دورےمیں اہم ملاقاتیں کرےگا

اسلام آباد: آئی ایم ایف کا یہ ایس او ایس مشن ہے ، جو کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے