مردوں کے امتیازی حقوق‘ کے بارے میں خصوصی نصاب

آئندہ سال سے آسٹریلوی ریاست وکٹوریا کے تمام سکولوں میں لازمی قرار دیے جانے والے اس نصابی پروگرام کو ’قابل احترام تعلق‘ یا ’رسپیکٹفل ریلیشن شپ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس پروگرام کے ذریعے طلبا کو معاشرتی عدم مساوات، جنسی بنیادوں پر ہونے والے تشدد اور مردوں کو ملنے والے امتیازی حقوق کے بارے میں جاننے میں مدد ملے گی۔

تاہم 2015 میں اس پروگرام کے تجربے کے بارے میں ایک رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس میں تمام مردوں کو ’برا‘ اور تمام خواتین کو ’متاثرہ‘ پیش کیا گیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت طلبا تنخواہوں میں عدم مساوات، غصے پر قابو پانا، جنسی تفریق اور پورنوگرافی کے خطرات جیسے موضوعات کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں گے اور اس پروگرام پر 21.8 ملین آسٹریلوی ڈالر لاگت آئے گے۔

پرائمری سکول کے طلبا کو گھروں میں کام کرنے والے، کھیلوں میں حصہ لینے والے، آگ بجھانے والے اور استقبالیہ پر کام کرنے والے لڑکوں اور لڑکیوں کی تصاویر دکھائی جائیں گی۔

اس میں شامل مواد میں ’لڑکیاں فٹ بال کھیل سکتی ہیں، ڈاکٹر بن سکتی ہیں اور مضبوط ہو سکتی ہیں جبکہ لڑکے دکھی ہونے کی صورت میں رو سکتے ہیں، نرس بن سکتے ہیں اور بچوں کو سنبھال سکتے ہیں‘ جیسی چیزیں شامل ہوں گی۔

سات سے آٹھ سال کے نصاب کے مطابق: ’مرد پیدا ہونے سے آپ کو ہونے والے فوائد، جیسے کے عوامی سطح پر زیادہ نمایاں ہونا اور یہ اس صورت میں صحیح ہوگا جب آپ خود ذاتی طور پر اسے تسلیم کریں یا آپ کو لگے کے آپ اس حق کے قابل ہیں۔‘

گیارہ سے 12 سال کے طلبا کو پیش کیے جانے والے تصور میں ’مردوں کی قائدانہ صلاحیت‘ جس کے لیے مردوں اور لڑکوں کے لیے جنس مخالف، سخت اور جذبات سے دور ہونا لازمی ہے اور خواتین پر مردوں کی برتری کو بڑھاوا دینا شامل ہے۔

بعض ناقدین کے خیال میں متاثرہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تو ضروری کام کیے جا چکے ہیں لیکن اس پروگرام میں معروضیت اور تفریق کی کمی موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں

آلہ ایجاد کیا گیا ہے جو سانس اور پھیھڑوں کے کئی جان لیوا امراض کی شناخت کرسکتا ہے

آلہ ایجاد کیا گیا ہے جو سانس اور پھیھڑوں کے کئی جان لیوا امراض کی شناخت کرسکتا ہے

مشی گن: ہزاروں لاکھوں لوگ ’اکیوٹ ریسپائریٹری ڈسٹریس سنڈروم‘ یعنی اے آر ڈی ایس کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے