افغانستان کے, دارالحکومت, کابل میں پیر سے چار, روزہ مشاورتی لویا جرگے, کا آغاز, ہو گیا

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پیر سے چار روزہ مشاورتی لویا جرگے کا آغاز ہو گیا

افغانستان : پیر کو جرگے کے افتتاحی اجلاس میں ملک بھر سے جمع ہونے والے 3200 نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر نے کہا ’یہ لوگ ملک بھر سے ایک پرچم تلے طالبان سے بات چیت کی حدود کے تعین کے لیے جمع ہیں اور پوری قوم کی نظریں اس مشاورتی جرگے پر ہیں

انھوں نے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف انھیں جرگے پر مکمل اعتماد ہے بلکہ ’ہر افغان شہری آپ پر بھروسہ کرتا ہے کہ آپ اپنی فہم و فراست اور ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے اس ملک کے مستقبل کا تعین کریں گے۔‘
یہ جرگہ ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب متعدد افغان سیاستدانوں بشمول ملک کے چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ نے اس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ اشرف غنی اس جرگے سے سیاسی فوائد اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
طالبان نے بھی اس جرگے کے انعقاد پر تنقید کی ہے اور اسے امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
لویا جرگہ کیا ہے؟
پشتو زبان میں ’لویا جرگہ‘ کا لفظی مطلب ’بڑا اجتماع‘ ہے۔
افغانستان میں اہم سماجی اور سیاسی معاملات پر بات چیت کے لیے جرگوں کے انعقاد کی روایت 18ویں صدی میں احمد شاہ درانی کے دور سے چلی آ رہی ہے۔
افغان آئین کے مطابق لویا جرگہ ’عوامی رائے کا سب سے اہم ترین اظہار ہے۔‘ آئین میں اس جرگے کو دیے جانے والے اختیارات، اس کی تشکیل اور ان حالات کا بھی تعین کیا گیا ہے جن میں یہ جرگہ منعقد کیا جا سکتا ہے۔
تاہم پیر کو منعقد ہونے والا لویا جرگہ اور اس سے قبل منعقد ہونے والے جرگے ’آئینی‘ لویا جرگے نہیں بلکہ ان کی حیثیت ’مشاورتی‘ جرگے کی ہے اور اسے اپنے فیصلوں کو نافذ کروانے کا اختیار نہیں ہے۔
اس قسم کا آخری جرگہ نومبر 2013 میں منعقد ہوا تھا جب 2500 قبائلی عمائدین اور سیاستدنوں نے کابل میں جمع ہو کر اس وقت کے صدر حامد کرزئی کو امریکہ کے ساتھ سکیورٹی کا دو طرفہ معاہدہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
23 اپریل کو اپنے ایک بیان میں افغان صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ جرگہ ’افغانستان کے لیے مستقبل کی راہ تلاش کرنے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔‘
افغان صدر نے کہا تھا کہ وہ اس جرگے کے مشوروں پر سنجیدگی سے عمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
خیال رہے کہ یہ جرگہ ایک ایسے وقت منعقد ہو رہا ہے جب امریکہ اور طالبان کے درمیان افغانستان میں قیامِ امن کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور اس میں پیش رفت کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔
افغان حکومت ان مذاکرات میں شامل نہیں ہے اور اس وجہ سے یہ سوالات بھی موجود ہیں کہ مستقبل میں طالبان سے بات چیت کے عمل میں افغانستان کی نمائندگی کسے کرنی چاہیے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ طالبان ماضی میں افغان حکومت سے بات چیت سے یہ کہہ کر انکار کرتے رہے ہیں کہ وہ ایک ’کٹھ پتلی‘ حکومت ہے۔
اس پس منظر میں لویا جرگے کا ایک اہم مقصد ان ’سرخ لکیروں‘ کا تعین بھی ہے جنھیں امن کے عمل کے دوران حکومت عبور کرنے کو تیار نہیں ہے۔
اس جرگے میں تین ہزار سے زیادہ افراد شرکت کر رہے ہیں جن میں قبائلی عمائدین، افغان پارلیمان کے ایوانِ بالا کے اراکین، حقوقِ انسانی کے کارکن اور صوبائی رہنما شامل ہیں۔
ان میں سے کچھ منتخب شدہ ارکان ہیں تو کچھ کو نامزد کیا گیا ہے۔
اس مرتبہ جرگے میں خواتین کو 30 فیصد نمائندگی دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔
افغان سیاست کے کئی اہم ناموں نے اس جرگے کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے اس عمل کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
بائیکاٹ کرنے والوں میں کم از کم چھ صدارتی امیدوار، ملک کے موجودہ چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ، محمد حنیف اتمار، رحمت اللہ نبیل، احمد ولی مسعود، نور الحق علمی اور فراماز تمنا شامل ہیں۔
ایک اور صدارتی امیدوار گلبدین حکمت یار کی جماعت حزبِ اسلامی نے بھی کہا تھا کہ اگر ’اصل‘ نمائندے موجود نہ ہوئے تو وہ بھی اس جرگے کا بائیکاٹ کریں گے۔
ان کے علاوہ طالبان جن کے بارے میں افغان حکام نے بتایا تھا کہ انھیں سرکاری طور پر دعوت دی گئی تھی، اس سارے عمل میں اپنی شرکت کے امکان کو ایک مرتبہ پھر مسترد کرتے ہوئے ایسی خبروں کو ’دشمن کی سازش‘ قرار دے چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

افغان صدر پر چیف ایگزیکٹیو کا الزام

افغان صدر پر چیف ایگزیکٹیو کا الزام

افغانستان کے چیف ایگزیکٹیوعبداللہ عبداللہ نے صدر اشرف غنی پر انتخابی مہم کے دوران سرکاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے