نغمہ نگار باب ڈیلن کو ادب کا نوبل انعام

سویڈش اکيڈمي کي جانب سے اِس اعلان نے دنيا بھر ميں ادبي حلقوں کو حيران کر ديا ہے ليکن اکيڈمي کا کہنا ہے کہ باب ڈلِن نے اپنے نغموں کے ذريعے شاعري کو اٌظہار کي نئي جہتوں سے روشناس کرايا ہے۔

پچھتر برس کے بوب ڈِلن کے بعض گانے جنگ مخالف اور شہري حقوق کي تحريکوں کے ترانے بن گئے تھے۔

1960 کی دہائی سے ہی ان کے کام کو سراہا جاتا رہا ہے جب انکے گانے ‘بلوئنگ اِن دی وِنڈ’ اور ‘دی ٹائمز دے ار اے چینجِنگ’ جنگ کے خلاف اور شہری حقوق کی تحریک کے ترانے بن گئے تھے۔

روائتی انداز کے نغموں سے ہٹ کر جدید نغموں کو اپنانے کا انکا فیصلے حالانکہ متنازع لیکن کامیاب رہا۔

ڈیلن کی کئی ایلبمز میں1965 میں ‘ہائی وے 61’ 1977 میں ‘بلونڈ او بلونڈ’ اور 1975 میں ‘بلڈ آن دی ٹریک’ شامل ہیں۔

1980 کی دہائی سے ڈیلن نے بے شمار ٹور کیے۔کافی عرصے سے انہیں نوبل انعام کے حقداروں میں سے ایک کہا جا رہا تھا لیکن کچھ ماہرین کا خیال تھا کہ یہ اعزاز فوک راک میوزک کے لیے دیا جانا چاہئے۔

نوبل فاؤنڈیشن کی سیکریٹری سارہ ڈینیس کا کہنا ہے کہ یہ اعزام دس نومبر کو دیگر پانچ اعزازات کے ساتھ دیا جائے گا۔

انکا کہنا تھا کہ ڈیلن کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ انگریزی کے ایک عظیم شاعر ہیں جنہوں نے بچھلے 54 سال کے دوران اپنے فن اور شناخت کو بار ہا ایک نئی جہت دی ہے

یہ بھی پڑھیں

پریانکا سے خیرسگالی سفیر کا اعزاز واپس لینے کے معاملے پر اقوام متحدہ کا ردعمل

پریانکا سے خیرسگالی سفیر کا اعزاز واپس لینے کے معاملے پر اقوام متحدہ کا ردعمل

بالی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کو خیرسگالی سفیر کے عہدے سے ہٹانے کے پاکستان کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے