پارلیمان ہالینڈ ,میں جسم فروشی, کی قانونی حیثیت, پر بحث ,کی تیاری, کر رہی ہے

پارلیمان ہالینڈ میں جسم فروشی کی قانونی حیثیت پر بحث کی تیاری کر رہی ہے

ہالینڈ: یہ نہ صرف ایک سیاحتی مقام اور ثقافتی علامت بن گیا ہے بلکہ ایک ایسی محفوظ جگہ کی مثال بھی ہے جہاں دہائیوں سے قانونی طور پر جسم فروشی کی جاتی ہے لیکن شاید جلد ہی یہ سلسلہ ختم ہو جائے

ان دنوں ولندیزی پارلیمان، ہالینڈ میں جسم فروشی کی قانونی حیثیت پر بحث کی تیاری کر رہی ہے۔ اس صنعت کو دائیں بازوں کے مسیحیوں اور بائیں بازو کی فیمینسٹس کی طرف سے مخالفت کا سامنا ہے اور ریڈ لائٹ ڈسٹرکٹ میں جسم فروشی کا کام کرنے والی خواتین کو اپنے کام کے حق کے تحفظ کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔
کیا یہ مباحثے دنیا بھر میں جسم فروشی کے کام میں بڑی تبدیلیوں کا سبب بن سکتے ہیں اور اس سے کس طرح اس کام سے جڑے لوگوں کی نوکریاں اور زندگیاں متاثر ہوں گی؟
اگر یہ آپ کی بہن ہوتی؟
یہ نوجوانوں کی طرف سے ہالینڈ میں چلائے جانے والی مہم کے نعروں میں سے ایک ہے۔ یہ مہم جسم فروشی کے کام سے جڑے کچھ حصوں کو مجرمانہ قرار دلوانے کی کوشش ہے۔
سارہ لوس ایک مہم پر کام کر رہی ہیں جس کا نام ولندیزی زبان میں ’اک بین اونبیتالبر` یا ’میں انمول ہوں` ہے۔ وہ کہتی ہیں ’وسیع پیمانے پر کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں سات سال کے دوران 46000 سے زائد عوامی دستخط جمع کیے جا چکے ہیں جس نے بالآخر پارلیمانی بحث کا آغاز کروا دیا ہے۔
اس کا مقصد موجودہ قوانین کو تبدیل کرنا ہے تاکہ وہ ’ناردک ماڈل‘ کی پیروی کر سکیں جس کے تحت ایسے مرد گاہکوں پر جرمانہ کیا جا سکے گا جو جسم فروش عورتوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ اس کا مقصد جسم فروشی کرنے والی عورتوں کے خلاف تشدد کو کم کرنا ہے۔ سنہ 1971 سے ہالینڈ میں دو بالغ افراد کے درمیان رقم کے عوض سیکس کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔
تاہم سارہ کے خیال میں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ریڈ لائٹ ڈسٹرکٹ جنسی آزادی کا مرکز یا علامت ہے وہ اسے #MeToo کے موجودہ دور میں دقیانوسی سمجھتی ہیں۔
ایک سیکس ورکر جو رومانیہ سے آئی ہیں اور چیری کی عرفیت سے جانی جاتی ہیں دس برس سے یہاں کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف کرایہ ادا کرنے اور کچھ پیسے جمع کا ذریعہ ہے جب تک کہ ’ عام نوکری` حاصل کرکے وہ ’عام زندگی‘ گزارنا نہیں شروع کر دیتیں۔
اگر پٹیشن کامیاب ہو گئی تو یہ مجھے یہاں سے باہر کی دنیا کی جانب دھکیلنے کے لیے ایک اچھا اقدام ہو گا۔‘
لیکن فوکسی نام کی ایک اور جسم فروش خاتون کا کہنا ہے کہ یہ درخواست ان کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے جسم فروشی کا کاروبار مزید ممنوع اور غیر واضح ہو جائے گا اور نتیجتاً اس کی قبولیت میں کمی اور نگرانی میں اضافہ ہو گا۔
’ہمیں چھپ کر کام کرنا پڑے گا اور یوں پولیس اور محکمۂ صحت کی ہماری رسائی نہیں ہو سکے گی۔`
وہ مزید کہتی ہیں ’میں یہ اپنی مرضی سے کر رہی ہوں‘ اور یہ کہ جسم فروشی سے لے کر انسانی سمگلنگ جیسے مسائل دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی موجود ہیں۔
تو کیا جسم فروشی کو قانونی بنانا عورتوں کو پیسے کمانے کی ایسی آزادی دے گا جو وہ چاہتی ہیں یا یہ ان کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔
جسم فروشی سے متعلق قوانین کتنی اچھی طرح سے خواتین کی حفاظت کرتے ہیں اور صحت کی دیکھ بھال جیسے فوائد تک رسائی دیتے ہیں، یہ ہر ملک میں مختلف ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غریب ممالک میں جسم فروشی کے خلاف قوانین کو ایسی جسم فروش خواتین کو سزائیں دینے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو اپنے ہی جسم پر کنٹرول رکھتی ہیں اور یہ قوانین بیماریوں کی روک تھام، انسانی سمگلنگ اور خواتین کے خلاف تشدد روکنے کے لیے ہمیشہ موثر ثابت نہیں ہوتے۔
پرآبھا کوتیسوارن کنگز کالج لندن میں قانون اور سماجی انصاف کی پروفیسر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جسم فروشی کے خلاف قوانین کو سیکس ورکرز کے حقوق کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔‘
’بالاخر یہ ہوتا ہے ہے کہ قانون کی پکڑ سے بچنے کے لیے سیکس ورکر کو خود پولیس کو جسمانی یا مالی رشوت دینی پڑتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو ادا کی جانے والی رقم کے بندوبست کے لیے انھیں زیادہ جسم فروشی کرنی پڑے گی۔‘
ایسے افراد جو خود کو ایبولیشیونسٹ (سیکس کے خلاف) کہتے ہیں کہ وہ زیادہ تر ایسے گاہکوں کو سزائیں دلوانا چاہتے ہیں جو سیکس کے لیے پیسے دے رہے ہیں لیکن باقی افراد کا ماننا ہے کہ اس کی توجہ ایسی خواتین کو بااختیار بنانے پر ہونی چاہیے جو پہلے ہی اس غیر محفوظ پیشے سے جڑی ہیں۔
کچھ کے خیال میں اس کے لیے بہترین طریقہ جسم فروشی کو 100 فیصد قانونی بنانا ہے۔
کرسٹینا پریرا کہتی ہیں ’سیکس کے لیے جا کر رقم ادا کرنا ٹھیک ہے اور میرا خیال ہے کہ یہ بیوقوفانہ ہے کہ فیمینسٹس ان چند پیشوں کو ختم کروانا چاہتی ہیں جن میں عورتیں، مردوں کی نسبت زیادہ کما رہی ہیں۔‘
پریرا، امریکی ریاست نیواڈا سے کبھی کبھار کام کرنے والی ایسی سیکس ورکر ہیں جو پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی رکھتی ہیں اور وہ سیکس انڈسٹری پر تحقیق کر رہی ہیں۔ وہ جسم فروشی کو غیر قانونی بنانے کی مخالف ہیں اور کہتی ہیں کہ انھوں نے جسم فروشی سے پیسے کما کر اچھی زندگی بنائی ہے۔
’میں نے اتنا کما لیا ہے کہ اب میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کر سکتی ہوں اور مجھے بہت کم کام کرنا پڑے گا۔ میرا مطلب ہے کیا عیش و آرام ہے۔ اسے ختم کرنے سے ہزاروں افراد کا روزگار ختم ہو جائے گا۔ ‘
پریرا کہتی ہیں ’قحبہ خانے کے بارے میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ چونکہ یہ قانونی ہے، تو جب آپ وہاں ہیں آپ محفوظ ہیں۔‘ وہ نیواڈا میں قحبہ خانوں کی بات کر رہی ہیں جہاں کچھ جگہوں پر جسم فروشی قانونی ہے۔
’اگر گاہک ہاتھ سے نکلنے کی کوشش کریں تو اس کے لیے پینک بٹن ہے۔‘
لیکن جولی بندل جو جسم فروشی کے خلاف کام کرنے والی ایک صحافی ہیں سمجھتی ہیں کہ ایسے ممالک جہاں جسم فروشی قانونی ہے وہاں زیادہ تر جسم فروشوں کا قتل دلال یا سیکس خریدنے والوں کے ہاتھوں ہوتا ہے۔
وہ کہتی ہیں صحافت میں انھیں کبھی ’پینک بٹن` کی ضرورت نہیں پڑی۔
بندل اس ’نورڈک ماڈل‘ کی حمایت کرتی ہیں جس کے بارے میں آج کل ڈچ مباحثوں میں بات چیت کی جاری ہے۔ یہ ایک ایسا ماڈل ہے جو نورڈک خطے سے باہر پھیلا ہوا ہے اور اس کا مقصد جسم فروشی کو قانونی بنانا ہے لیکن یہ سیکس خریدنے والوں کو مجرم بنا سکتا ہے۔
جسم فروشی خواتین کے لیے اتنی محفوظ نہیں ہے اس لیے اسے کسی بھی ایسے دوسرے پیشے کے ساتھ نہ تو جوڑا جا سکتا ہے جو حکومتی نگرانی میں چل رہا ہوں اور نہ اس کے بارے میں بات کی جا سکتی ہے۔
وہ جرمنی میں بڑے قحبہ خانوں کے طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ جب تک جسم فروشوں کو استعمال کی چیز کے طور پر دیکھا جا تا رہے گا تب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
وہ کہتی ہیں ’ایسے اشتہارات چلائے جا رہے ہیں جن میں مردوں کو دوپہر کے کھانے کے وقفے میں کھانے کے ساتھ جتنی عورتیں وہ چاہیں حاصل کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ یہ اشتہاری مہم کا حصہ بن چکا ہے۔ انہیں برگر میں گوشت کی مانند سمجھا جاتا ہے۔‘
بندل کا ماننا ہے کہ جسم فروشی کی جڑ صنفی تفاوت میں ہے۔ اس لیے وہ ایک ایسے ماڈل کی حمایت پر زور دیتی ہیں جس کے تحت سیکس ورکر فون اٹھا کر پولیس کو کال کر سکتی ہیں، چاہے مرد نے کوئی غلط یا پُرتشدد حرکت نہ بھی کی ہو، لیکن کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔
لیکن پریرا کہتی ہیں ان کا ایسا کوئی تجربہ نہیں ہے، نہ ہی کبھی کسی مرد نے ان کے ساتھ قحبہ خانے کے ضوابط توڑتے ہوئے کونڈم پہننے سے انکار کیا ہے۔ وہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور طبی جریدے دا لینسٹ کے ڈیٹا کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو دونوں اسے مکمل طور پر جرائم کی فہرست میں نہیں رکھتے۔
مثال کے طور پر 2003 اور 2008 کے درمیان رہوڈز آئی لینڈ میں جسم فروشی کو قانونی بنانے کے بعد خواتین سیکس ورکروں کے خلاف ہونے والے تشدد میں 30 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔
پریرا کہتی ہیں ’سیکس ورکرز کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ یہ گمان کہ زیادہ خواتین اس پیشے میں شامل ہوں گی، درست نہیں اور ایسا بھی نہیں کہ جیسے یہ ایک بری چیز ہو۔‘
وہ زور دیتے ہوئے کہتی ہیں ’وہ محفوظ جنسی طریقوں اور قحبہ خانوں کے حالات بہتر بنانے کے لیے بات چیت کر سکتی ہیں، اگر وہ بااختیار ہوں تو اپنے حقوق کی خلاف ورزی پر مقدمہ بھی کر سکتی ہیں۔
جسم فروشی کے خلاف مہم چلانے والے افراد کا کہنا ہے کہ جسم فروشی کے کاروبار کے کچھ حصوں کو مجرمانہ قرار دینا گاہگ کو ذمہ دار، کام کی جگہوں پر خواتین کو محفوظ اور بااختیار بناتا ہے۔
جیسے جیسے ڈچ پارلیمان اس کے بارے میں تیاری کر رہی ہے، یہ بحث بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ پریرا کا کہنا ہے کہ سیکس کے خلاف مہم چلانے والے افراد کو زیادہ سے زیادہ جسم فروشوں سے ان کے متعلق بات کرنی چاہیے، لیکن بندل کا کہنا ہے کہ سب کا تجربہ پریرا جیسا نہیں۔
لیکن یہ بحث اس موضوع پر ضروری جانچ کرنے پر زور دیتی ہے۔ اور یہ اس بات کی بھی عکاسی کرنے پر زور دیتی ہے کہ ہم جسم فروشی کو دنیا کا سب سے قدیم پیشہ کیوں کہتے ہیں۔
پریرا کہتی ہیں ’جب تک مرد ہیں، سیکس کی مانگ ہوگی اور اگر بالغ عورتیں ایسا کرنے کے لیے اپنی رضامندی دیتی ہیں تو یہ ٹھیک ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ٹرمپ کو لگام نہ ڈالی گئی تو لوگ مریں گے: نکی ہیلی

ٹرمپ کو لگام نہ ڈالی گئی تو لوگ مریں گے: نکی ہیلی

نکی ہیلی نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے دو اہم مشیروں نے ان سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے