ڈیڑھ سو سالہ, ٹریک نے پاکستان ریلوے ,کو مالی, خسارے سے ,دوچار کر دیا

ڈیڑھ سو سالہ ٹریک نے پاکستان ریلوے کو مالی خسارے سے دوچار کر دیا

  اسلام آباد: نئی حکومت میں بھی پاکستان ریلوے کی تقدیر نہ بدل سکی، ایم ایل ون کا 55 فیصد جبکہ ایم ایل ٹو اور ایم ایل تھری کا 80 فیصد ریلوے ٹریک اپنی عمر پوری کر گیا

رواں مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ میں ریلوے کو 33 ارب 39 کروڑ کی آمدن ہوئی جو گزشتہ سال سے ڈھائی کروڑ روپے زائد ہے۔
ریلوے کا مجمومی خسارہ 350 ارب سے تجاوز کر گیا ،گزشتہ سال ریلوے نے 49 ارب 60 کروڑ کی آمدن کے مقابل 86 ارب 20کروڑ روپے خرچ کیے جس سے قومی ادارے کو 36 ارب 60 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا
گزشتہ سال پاکستان ریلوے نے مجموعی آمدن سے 57 ارب 24 کروڑ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیاں کیں جبکہ 14ارب 68 کروڑآئل، ساڑھے6 ارب ریل گاڑیوں کی مرمت اور ساڑھے7 ارب سے زائد دیگر انتظامی اخراجات پر خر چ آیا، ریلوے کو گزشتہ ساڑھے 5 سال میں 188 ارب کی آمدن کے برعکس 210 ارب سے زائد کا خسارہ برداشت کرنا پڑا جبکہ اسی عرصے کے دوران پاکستان ریلوے کی جانب سے مسافروں کو 230 ارب کی سبسڈی دی گئی۔
پاکستان ریلوے کو 2012-13 میں ساڑھے 30 ارب، 2013-14 میں32 ارب 52 کروڑ، 2014-15 میں27 ارب 24 کروڑ، 2015-16 میں 27 ارب، 2016-17 میں 40 ارب جبکہ گزشتہ سال 36 ارب روپے رہا، وزارت ریلوے نے خزانہ ڈویژن سے مشاورت کے بعد رواں سا ل کیلیے ساڑھے 50 کروڑ کا ہدف مقرر کیا، دستاویزات کے مطابق ریلوے پنشنرز میں مسلسل اضافہ بھی خسارے کی وجوہ میں سے ایک ہے، پاکستان ریلوے کے ایک لاکھ19ہزار 375پنشنرز جبکہ 73ہزار 137ملازمین ہیں ، پاکستان ریلوے کے66 فیصد اخرجات تنخواہوں اور پنشنرز پر ہی خرچ ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فریال تالپور کی سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کو یقینی بنانے کے انتظامات کیے جائیں

فریال تالپور کی سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کو یقینی بنانے کے انتظامات کیے جائیں

اسلام آباد: سندھ اسمبلی میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی تاہم بدھ کے روز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے