ڈاکٹروں اور, پیرامیڈیکل سٹاف, کے, ضابطہ اخلاق پر, سوالات اٹھائے, جا رہے ہیں

ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کے ضابطہ اخلاق پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں

کراچی: نو ماہ کی بچی کی ڈاکڑوں کی مبینہ غفلت سے ہلاکت کے بعد حکومت سندھ نے نجی ہسپتال دارالصحت کے او پی ڈی شعبے کو بند کردیا ہے، تاہم ہسپتال کے دیگر تمام شعبے بشمول انتہائی نگہداشت کا شعبہ بدستور کام کر رہا ہے

سندھ صحت کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 9 ماہ کی نشوا کی موت ہسپتال کے غفلت کے باعث ہوئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ہسپتال اپنے تمام غیر تربیت یافتہ عملے کو برطرف کرے جبکہ ہسپتال پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہسپتال میں 165 نرسیں ہیں، جن میں سے صرف 70 تربیت یافتہ ہیں۔
نشوا کے والد قیصر علی نے اپنی بیٹی کی ہلاکت اور ہسپتال کی غفلت کا مقدمہ درج کرایا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ دست کی وجہ سے وہ اپنی دو جڑواں بیٹیوں نشوا اور عائشہ کو لے کر دارالصحت ہپستال گئے تھے، جہاں دونوں کو بچوں کے وارڈ میں منتقل کر کے ڈرپ لگائی گئی اور رات دس بجے تک بیٹیاں بیڈ پر کھیلنے لگیں۔
بعد میں نشوہ کی حالت خراب ہوگئی اور ہسپتال انتظامیہ نے اعتراف کیا کہ غلطی سے نشوا کو دوا کی اوور ڈوز لگ گئی ہے۔
اگر کسی مریض کو ہنگامی حالت میں ہسپتال لایا جاتا ہے، تو اس کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کا طریقہ کار یعنی اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کیا ہے؟
یہ سوال کچھ ماہرین سے کیا گیا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ کوئی مشترکہ طریقہ کار رائج نہیں ہے۔
کراچی کے جناح پوسٹ گریجوایٹ ہسپتال کے شعبے حادثات کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو ایمرجنسی میں لایا جاتا ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ پہلے پیرا میڈیک آئے گا، وہ دیکھے گا اور اس کے بعد دوسرے ڈاکٹرز دیکھیں گے، بلکہ یہ پوری ٹیم کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
’جیسے گن شاٹ کا زخمی ہے، آپ یہ انتظار نہیں کریں گے کہ پہلے پیرا میڈیکل دیکھے، پھر نرس دیکھے اس کے بعد جونیئر ڈاکٹر دیکھے اس کے بعد سینیئر ڈاکٹر دیکھے۔ ایسا نہیں ہوتا بلکہ تمام ٹیم مشترکہ جان بچانے کی کوشش کرتی ہے کیونکہ ابتدائی گھنٹے ہی سب سے اہم ہوتے ہیں جن میں مریض کی زندگی بچائی جاسکتی ہے۔
پاکستان میں ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) ڈاکٹروں اور مریضوں کے مفادات اور آگاہی کے لیے کام کرتی ہے۔
تنظیم کے کراچی کے صدر ڈاکٹر خلیل مقدم کہتے ہیں کہ ہر ہسپتال کا اپنا ایس او پی ہوتا ہے اور ہر مرض کے علاج کا اپنا پروٹوکول ہوتا ہے۔
’ایک شخص جو عارضہ قلب میں آیا ہے اس کے پروٹوکول الگ ہوں گے اور جو فریکچر کے ساتھ آیا ہے اس کے ایس او پیز الگ ہوں گے۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ ہر ہسپتال میں تربیت یافتہ ڈاکٹر اور دیگر طبی عملہ موجود ہونا چاہیے۔‘
ڈاکٹر خلیل کے مطابق سرکاری اور نجی ہسپتال میں قوائد و ضوابط پر عملدرآمد کی نگرانی محکمہ صحت اور ہیلتھ کمیشن کی ذمہ داری ہے، تاہم غلطی اور غفلت میں فرق رکھنا چاہیے۔
اگر کسی کو معلوم ہو کہ اس سے یہ نقصان ہوگا پھر بھی وہ یہ اقدام اٹھائے تو یہ غفلت برتنے کے مترادف ہے۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) ڈاکٹروں کی رجسٹرڈ اتھارٹی ہے، جس کی جانب سے بنائے گئے ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی کیئر انسانی بنیادوں پر فراہم کی جائے گی، دوران علاج ڈاکٹر یہ نہیں بھولے گا کہ زیر علاج مریض کی صحت اور زندگی کا دوار و مدار اس کے مہارت اور توجہ پر ہے۔
اگر کوئی ڈاکٹر دوران علاج یہ سمجھتا ہے کہ مرض کی تشخیص اس کی قابلیت سے زیادہ ہے تو وہ اپنے سینیئر کو بلائے گا۔ اسی طرح اگر وہ کسی وجہ سے دستیاب نہیں ہے تو وہ کسی دوسرے ڈاکٹر کا انتظام کرے گا اور مریض کو اس سے آگاہ کرے گا۔‘
ضابطہ اخلاق کے مطابق ڈاکٹر کا یہ فرض ہے کہ وہ علاج کے فوائد اور اخراجات سے مریض کو آگاہ کرے اور مریض اپنے میڈیکل ریکارڈ کی کاپی اور اس پر آزادانہ رائے یا مشورہ حاصل کرسکتا ہے، اس کے علاوہ کسی بھی طبی مرحلے میں مریض کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اس کے فوائد و نقصانات کیا ہیں اس کے ساتھ تجویز کردہ نسخے کے ممکنہ ری ایکشن کے بارے میں آگاہی دی جائے گی۔
پی ایم ڈی سی نے تمام طبی کالجز اور جامعات کو ہدایت کی ہے کہ وہ ضابطہ اخلاق کو اپنے نصاب کا بھی حصہ بنائیں۔ اس ضابطہ اخلاق میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر پر لازم ہے کہ مریض کے معائنے سے قبل وہ اس سے اجازت طلب کرے، خواتین کے طبی معائنے کے دوران خاتون اٹینڈ کا ہونا لازمی ہے جبکہ بچے کی صورت میں اس کے والدین سے اجازت طلب کی جائے۔
پی ایم ڈی سی نے ضابطہ اخلاق میں بتایا ہے کہ غفلت اور پیشہ ورانہ فرائض میں کوتاہی برتنے پر ڈاکٹر کی رجسٹریشن منسوخ کی جاسکتی ہے، اس کا فیصلہ کمیٹی کرے گی جبکہ کارروائی کے لیے پی ایم ڈی سی کو شکایت کرنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ہم ساؤتھ ایشیا کا سب بڑا بائیو ٹیکنالوجی سینٹر بنارہے ہیں

ہم ساؤتھ ایشیا کا سب بڑا بائیو ٹیکنالوجی سینٹر بنارہے ہیں

کراچی: مستقبل میں بجلی کی ترسیل کھمبوں اور تاروں کی بجائے گرین انرجی سے ہوگی۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے