یوکرینی تنازعہ، یورپی یونین کی روس پر کڑی تنقید

یوکرینی تنازعہ، یورپی یونین کی روس پر کڑی تنقید

برسلز: یوکرینی تنازعہ سے متعلق روسی صدر ولادی میرپیوٹن کے بیان پر یورپی یونین نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

تفصیلات کے مطابق مشرقی یوکرین کے علاقے ڈونیٹسک اور لوہانسک سے متعق روس اور یوکرین کے درمیان شدید تنازع ہے، ان علاقوں میں روس نواز باغی اور ملکی افواج کے مابین جنگی صورت حال رہ چکی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی صدر ولادی میرپیوٹن نے گذشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ یوکرین کے علیحدگی پسند خطوں ڈونَیٹسک اور لُوہانسک کے باشندے اگر چاہیں تو اپنے لیے روسی پاسپورٹوں کی درخواستیں دے سکتے ہیں۔

اس بیان کہ ردعمل میں یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگیرنی نے روسی صدر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، ان کے مطابق علیحدگی پسندوں کے زیر کنٹرول یوکرائنی علاقوں کے شہریوں کو روسی پاسپورٹ کی فراہمی یوکرائن کی ’خود مختاری پر حملہ‘ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روس اس تنازعے کو مزید بڑھا رہا ہے۔ قبل ازیں یورپ کی دو بڑی طاقتوں جرمنی اور فرانس نے بھی روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

خیال رے کہ گذشتہ روز ولادی میرپیوٹن کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بات ناقابل قبول ہے کہ یوکرائن کے ڈونَیٹسک اور لُوہانسک نامی علاقوں کے رہائشیوں کو تقریبا کوئی حقوق حاصل نہیں ہیں لیکن پھر بھی نئی حکومت کے لیے حالات سازگار رہیں گے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل معروف کامیڈین ویلودومیر زیلنسکی نے یوکرین کے صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر کو شکست دے چکے ہیں، اب وہ ملک کے صدر کی حیثیت سے اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔

امریکا پابندیاں ہٹائے اور معافی مانگے تو مذاکرات پر راضی ہیں، ایران

یہ بھی پڑھیں

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی

واشنگٹن: فوجی بھیجنے کا فیصلہ امریکی قومی سلامتی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے