امریکہ اس استثنیٰ کو, ختم کر رہا ہے, جو ایران سے تیل, خریدنے والے, ملکوں کو, حاصل تھا

امریکہ اس استثنیٰ کو ختم کر رہا ہے جو ایران سے تیل خریدنے والے ملکوں کو حاصل تھا

 ایران: ان ملکوں کی فہرست میں امریکہ کے چند قریبی اتحادی ملک بھی شامل ہیں جن کو ایران سے تیل کی خریداری مکمل طور پر بند نہ کرنے پر امریکی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا ‘مقصد بہت سادہ اور صاف ہے۔’
ان کے مطابق ’مقصد یہ ہے کہ ایک ‘غیرقانونی’ حکومت کو اُس پیسے سے محروم کیا جائے جسے وہ گزشتہ چار دہائیوں سے مشرق وسطی میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے اور ایران کو عام ملکوں کی طرف رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
امریکہ کا یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان کئی ماہ سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد سامنے آیا اور یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کا اثر مشرقِ وسطیٰ سے باہر بھی محسوس کیا جائے گا اور شاید آپ کا بجٹ پر بھی اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔
سب سے پہلے اس سارے قضیے کا کچھ سیاق و سباق بیان کیا جائے کہ بات یہاں تک کیسے پہنچی۔
گزشتہ سال نومبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور اس کے بڑے اتحادی یورپی ملکوں کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والے معاہدے سے یکطرفہ طور پر نکلنے کا فیصلہ کیا تو ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
امریکہ کو شام اور یمن میں مبینہ ایرانی مداخلت پر بھی شدید اعتراض ہے۔
گزشتہ سال جس وقت ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں تو اُس وقت امریکہ نے ایران سے تیل خریدنے والے ملکوں کو عارضی طور پر ایران کے ساتھ تجارت کرنے کی پاداش میں لگنے والی اقتصادی پابندیوں سے استثنیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔
ایران پر اقتصادی پابندی لگاتے وقت امریکہ نے آٹھ ملکوں کو اپنی تیل کی ضروریات پوری کرنے کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی عرض سے عارضی استثنیٰ دے دیا تھا۔
ان میں چین، انڈیا، جاپان، جنوبی کوریا، ترکی، اٹلی، یونان اور تائیوان شامل تھے۔ ان میں تین ملکوں اٹلی، یونان اور تائیوان نے تو متبادل ذریعہ تلاش کر لیا لیکن چین اور امریکہ کے اتحادی ملکوں انڈیا، جاپان، جنوبی کوریا اور ترکی نے ایران سے تیل خریدنا بند نہیں کیا۔
امریکہ کی طرف سے استثنیٰ واپس لیے جانے کے بعد اگر ان پانچوں ملکوں نے دو مئی تک ایران سے تیل کی درآمد بند نہیں کی تو ان پر امریکی اقتصادی پابندیاں عائد ہو جائیں گی۔
برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران سے روزانہ 13 لاکھ بیرل تیل سرکاری طور پر برآمد کیا جاتا ہے جس کے علاوہ بڑی مقدار میں تیل چھپ چھپا کر بھی بیچا جاتا ہے۔
یہ کس طرح ممکن ہے؟ بین الاقوامی ڈیٹا انٹیلیجنس کمپنی کپلر کے اہلکار الیگزنڈر بوتھ نے بتایا کہ ایرانی تیل بردار جہاز 100 میں سے 80 مرتبہ اپنے ‘ٹرانسپونڈر ٹریکر’ بند کر دیتے ہیں۔ اس طرح یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ان مال بردار بحری جہازوں پر کیا لدا ہوا ہے، یہ کہاں سے لایا جا رہا ہے اور کہاں لے جایا جا رہا ہے۔
مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکہ کا مقصد مئی کی دو تاریخ کے بعد ایران کے تیل برآمدات کو مکمل طور پر بند کرنا ہے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ پانچوں ملک اس کی پابندی کریں جبکہ ترکی اور چین نے واضح کر دیا ہے کہ وہ یہ پسند نہیں کرتے کہ انھیں پابند کیا جائے کہ وہ کیا درآمد کر سکتے ہیں اور کیا درآمد نہیں کر سکتے۔
الیگزنڈر بوتھ کے مطابق چین اور ترکی کے بغیر جن کا ایران کے تیل کے مجموعی برآمدات میں حصہ تقریباً پچاس فیصد ہے، ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر پر نہیں لایا جا سکتا۔
کسی حد تک پامپیو کی بات درست تھی کہ تیل زرمبادلہ حاصل کرنے کے لیے ایران کا سب سے بڑا ذریعہ ہے لیکن واحد ذریعہ نہیں ہے۔
تیل پیدا کرنےوالے ملکوں کی تنظیم اوپیک کے مطابق گزشتہ سال ایران کی پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات کا کل حجم 52 ارب 70 کروڑ ڈالر تھا جبکہ اس کی مجموعی برآمدات کی مالیت 110 ارب ڈالر تھی۔ ایران باقی زرِمبادلہ کیمیکلز، دھاتیں اور دیگر اشیا برآمد کر کے حاصل کرتا ہے۔
ایران کے پاس مذاکرات کے لیے کوئی جگہ نہیں بچی ہے۔ لیکن اس کا محل وقوع اس کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
تیل کی عالمی پیداوار کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزر کر مختلف ملکوں تک پہنچتا ہے اور آبنائے ہرمز خلیج کی ریاستوں اور سعودی عرب تک جانے والی وہ گزرگاہ ہے جو ایران کے مغربی ساحل سے متصل ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی تیل کی برآمدات یہیں سے گزرتی ہیں۔
ایران کئی مرتبہ آبنائے ہرمز کو بند کر دینے کی دھمکی دے چکا ہے جس کی ایک جگہ سے چوڑائی صرف 33 کلو میٹر ہے اور اس میں جہاز رانی کے قابل حصہ صرف دو میل چوڑا ہے۔
تصور کریں کہ اگر ملک کی آدھی برآمدات یک لخت رک جائیں؟
امریکہ کے استثنی اٹھائے جانے کے اعلان سے قبل ہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کہا تھا کہ ایران کی معیشت اس برس چھ فیصد تک سکڑ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

دبئی ائیر شو 2019 کا آغاز ؛ پاکستان سمیت 160 ممالک کی شرکت

دبئی ائیر شو 2019 کا آغاز ؛ پاکستان سمیت 160 ممالک کی شرکت

دبئی میں سالانہ ائیر شو 2019 کا آغاز ہوگیا ، ائیر شو میں پاکستان سمیت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے