ای میلز، شام و عراق، معیشت اور اسلام پر بات

مباحثے کے آغاز سے کچھ ہی دیر قبل ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر اور ٹرمپ کے مدِ مقابل ہلیری کلنٹن کے شوہر، بل کلنٹن پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگانے والی خواتین کے ساتھ مل کر ایک پریس کانفرنس کی۔

مباحثے کے دوران دونوں امیدواروں نے ایک بار پھر ایک دوسرے کو جھوٹا اور غیر حقیقت پسند کہتے ہوئے صدارت کے لیے غیر موضوع قرار دیا۔

مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنی ویڈیو ٹیپ کے بارے میں ’فخر‘ محسوس نہیں کرتے تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کی سیاسی تاریخ میں بل کلنٹن سے زیادہ خواتین کی توہین کسی نے نہیں کی۔

اس کے جواب میں ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ’ہم نے جمعے کو جو دیکھا اور سنا کہ ڈونلڈ عورت کے بارے میں کیا سوچتے ہیں‘

ان کا کہنا تھا کہ ‘صرف خواتین کی توہین کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھتا ہے بلکہ ڈونلڈ کی جانب سے افریقی نژاد امریکیوں، تارکینِ وطن اور مسلمانوں سمیت دیگر طبقوں کو نشانہ بنانے کی وجہ سے اٹھتا ہے۔’

ڈونلڈ ٹرمپ نے بحث کے دوران ہلیری کلنٹن کی جانب سے ای میلز کے لیے اپنے ذاتی اکاؤنٹ کے استعمال پر بھی شدید تنقید کی۔

ہلیری کلنٹن نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ذاتی ای میلز کا استعمال ایک ’غلطی‘ تھی تاہم انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں جن کے ذریعے یہ ثابت ہو کہ خفیہ معلومات غلط ہاتھوں تک پہنچ گئی تھیں۔

مسٹر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ہلیری کلنٹن کی ای میلز کی تحقیقات کے لیے خصوصی پراسیکیوٹر تعینات کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر وہ صدر ہوتے تو ہلیری کلنٹن جیل میں ہوتیں۔

اس سے قبل چار خواتین کے ہمراہ کی جانے والی ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس کو فیس بک پر براہِ راست نشر کیا گیا۔ ان میں سے تین بل کلنٹن پر یہ الزام لگاتی ہیں کہ سابق صدر نے انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا اور ایک چوتھی خاتون وہ ہیں جن کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے شخص کا ہلیری کلنٹن نے دفاع کیا تھا۔

ہلری کلنٹن نے اس پریس کانفرنس کو بے چارگی کا اقدام قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ اسی ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کی خواتین کے بارے میں نازیبا گفتگو کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد وہ شدید مشکلات میں ہیں اور رپبلکن پارٹی کے ایک درجن کے قریب سینیئر رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیں گے۔

جمعے کو سامنے آنے والی اس ویڈیو کے بعد صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے وال سٹریٹ جنرل کو ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کے صدراتی دوڑ کو چھوڑنے کا امکان صفر فیصد ہے اور انھیں ہر طرف سے بے پناہ حمایت حاصل ہو رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ پر عورتوں کے بارے میں نازیبا گفتگو کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سے تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ ریپلکن پارٹی کے سینیئر رہنماؤں نے خواتین کے بارے میں صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے نازیبا بیانات کی مذمت کی ہے۔

ان کی حمایت سے دستبرداری اختیار کرنے والے ان افراد میں رپبلکن پارٹی کے سابق صدارتی امیدوار جان مکین اور سابق امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس شامل ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان سنہ 2005 کا ہے جس کی ویڈیو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے حال ہی میں جاری کی ہے۔

اس ویڈیو ٹیپ میں ڈونلڈ ٹرمپ ٹی وی کے میزبان بلی بش کو یہ کہتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں کہ ‘اگر آپ سٹار ہیں تو’ خواتین کے ساتھ ‘آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’

اس ویڈیو پر شدید تنقید کے بعد ٹرمپ نے ایک ویڈیو نشر کر کے اپنے بیانات پر معافی طلب کی ہے۔

معذرتی ویڈیو میں انھوں نے کہا: ‘میں نے ایسی باتیں کہی اور کی ہیں جن پر مجھے افسوس ہے۔ جو کوئی مجھے جانتا ہے اسے معلوم ہے کہ یہ الفاظ میری شخصیت کی عکاسی نہیں کرتے۔ میں نے یہ باتیں کہی ہیں، میں غلط تھا اور میں معافی مانگتا ہوں۔’

ٹرمپ کی حریف ہلیری کلنٹن نے ٹوئٹر پر تبصرہ کرتے ان باتوں کو ‘ہولناک’ قرار دیا۔ انھوں نے لکھا: ‘ہم اس شخص کو صدر نہیں بننے دے سکتے۔’

اس ویڈیو میں ارب پتی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ سیکس کی کوشش اور ديگر خواتین کے ساتھ بوس و کنار، چھونے اور پکڑنے کے بارے میں ڈینگیں مارتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

یہ ویڈیو ٹیپ ایکسس ہالی وڈ کے ایک پروگرام کا حصہ تھا جو نشر نہیں کیا گیا تھا۔

اس میں انھیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: ‘میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے اس کے ساتھ کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ وہ شادی شدہ تھی اور میں نے اس پر کافی زور آزمائی کی۔’

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی معذرتی ویڈیو میں معافی مانگنے کے علاوہ یہ بھی کہا کہ ‘یہ لاکر روم گپ شپ ہے اور یہ ذاتی باتیں ہیں جو کئی سال پہلے کی ہیں۔’

یہ بھی پڑھیں

ہم قانونی کارروائی اور جامع بات چیت کے لیے ہر فرد کے حقوق کا احترام کرتے ہیں

ہم قانونی کارروائی اور جامع بات چیت کے لیے ہر فرد کے حقوق کا احترام کرتے ہیں

امریکا: اس علاقے کے دورے کے بعد واپس آنے والے عہدیدار نے نام ظاہر نہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے