خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شدت پسند, تنظیم, دولت اسلامیہ اُن بم دھماکوں, کے پیچھے, ہو سکتی ہے

خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اُن بم دھماکوں کے پیچھے ہو سکتی ہے

سری لنکا:  سری لنکا کی پارلیمان کو بتایا گیا ہے کہ اس ماہ کے آغاز میں ان حملوں کے بارے میں انڈیا کی جانب سے فراہم کردہ انٹیلیجنس تنبیہ کو حکام نے درست انداز میں آگے نہیں پہنچایا

ن خودکش دھماکوں میں ملوث افراد کی شناخت بھی کر لی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ نو حملہ آوروں میں سے آٹھ سری لنکن شہری تھے۔ حملہ آوروں کے مبینہ سرغنہ کی بہن نے اپنے بھائی کے اقدام کی سخت مذمت کی ہے۔
سری لنکا کے وزیر اعظم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اُن بم دھماکوں کے پیچھے ہو سکتی ہے۔ رانیل وکرماسنگھے نے کہا کہ حکومت کا خیال ہے کہ اتوار کو ہونے والے دھماکے بغیر بیرونی مدد کے نہیں ہو سکتے تھے۔
دولت اسلامیہ نے منگل کو ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی لیکن اس کے شواہد فراہم نہیں کیے اور سری لنکن حکام اس دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے کوشاں ہیں۔
سری لنکا کے نائب وزیرِ دفاع روان وجےوردنے نے پارلیمان میں اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہمیں اس کی ذمہ داری لینی پڑے گی کیونکہ بدقسمتی سے اگر خفیہ اطلاعات صحیح افراد کو دے دی جاتیں تو میرے خیال میں ان (حملوں) سے بچا جا سکتا تھا تا کم از کم ان کا اثر کم کیا جا سکتا تھا۔
قائدِ ایوان لکشمن کریئیلا نے کہا کہ سینیئر حکام نے ممکنہ حملوں کے بارے خفیہ اطلاعات جان بوجھ کر آگے نہیں دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’خفیہ اداروں کے کچھ حکام نے ان اطلاعات کو چھپائے رکھا۔ معلومات موجود تھیں لیکن ملک کی سکیورٹی کے ذمہ دار اعلیٰ حکام نے مناسب اقدامات نہیں کیے۔‘
خودکش بمباروں کے مبینہ سرغنہ اور اسلامی مبلغ ظہران ہاشم کہاں ہیں اور ان کے ساتھ کیا ہوا۔
وہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی ایک ویڈیو میں تو دکھائی دیے ہیں لیکن پولیس یہ نہیں جانتی کہ آیا وہ خودکش حملے کرنے والوں میں شامل تھے یا مفرور ہیں۔
ان کی بہن مدنیا محمد ہاشم نےکہا ہے کہ ’مجھے اس کے اقدامات کا صرف میڈیا کے ذریعے ہی معلوم ہوا ہے۔ میں نے تو ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ ایسا کچھ کرے گا۔‘
’اس نے جو کیا میں اس کی مذمت کرتی ہوں۔ اگرچہ وہ میرا بھائی ہے لیکن میرے لیے یہ قابلِ قبول نہیں۔ مجھے اب اس کی فکر نہیں ہے۔
نائب وزیرِ دفاع روان وجےوردنے کے مطابق حملہ آوروں میں سے زیادہ تر تعلیم یافتہ تھے اور متوسط یا پھر اعلیٰ متوسط گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔
برطانوی حکام کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے کہ ایک خودکش بمبار عبدالطیف جمیل محمد کے نام سے برطانیہ آیا تھا۔
دو حملہ آور بھائی تھے اور کولمبو کے ایک امیر تاجر کے بیٹے تھے جن کا مصالحوں کا کاروبار ہے۔ انھوں نے شنگریلا اور سنامن گرینڈ ہوٹل میں حملے کیے۔‘
سری لنکن حکومت نے اتوار کو ہونے والے بم دھماکوں کے لیے مقامی اسلامی شدت پسند گروپ نیشنل توحید جماعت (این ٹی جے) کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔
لیکن وزیراعظم وکرما سنگھے نے کہا ہے کہ یہ حملے ‘صرف مقامی سطح پر نہیں کیے جا سکتے تھے۔ ان کو تربیت دی گئی ہو گی اور انھیں تعاون حاصل ہو گا جسے ہم پہلے نہیں دیکھ سکے۔’
مرنے والوں میں زیادہ تر سری لنکا کے باشندے تھے جن میں ایسٹر کی سروس میں جانے والے مسیحی بھی شامل تھے۔
سری لنکن وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں 38 غیر ملکی بھی شامل ہیں جبکہ ابھی 14 غیر شناخت شدہ لاشیں بھی کولمبو کے مردہ خانے میں ہیں جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
ہلاک ہونے والے غیرملکیوں میں کم از کم 11 انڈین باشندے اور آٹھ برطانوی شہری شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

برطانوی شاہی خاندان کی تین خواتین امید سے

برطانوی شاہی خاندان کی تین خواتین امید سے

برطانوی شاہی خاندان کی دونوں شہزادوں کہ اہلیہ امید سے ہیں اور جلد شاہی خاندان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے