اربوں روپے, کی منی لانڈرنگ, اور, بے نامی, اکاؤنٹس

اربوں روپے کی منی لانڈرنگ اور بے نامی اکاؤنٹس

کراچی: کسٹم عدالت کے روبرو امریکی ڈالرز بیرون ملک بھیجنے، اربوں روپے کی منی لانڈرنگ اور بے نامی اکاؤنٹس سے متعلق منی لانڈرنگ، جعلی اکاؤنٹس کیس کے 3 مختلف مقدمات کی سماعت ہوئی

ملزمان گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہوگئے۔ عدالت نے 4 لاکھ سے زائد امریکی ڈالرز امریکا منتقل کرنے والے خاندان کے وارنٹ گرفتاری ایک بار پھر جاری کردیے۔ ملزمان میں پرویز علی، بیٹیاں سارہ، انم علی اور بیٹا جبران شامل ہیں۔
نصرت بھٹو کالونی کے رہائشی محمد ابراہیم کے اکاؤنٹ میں 36 کروڑ کی ٹرانزیکشن ہوئی، بے نامی اکاؤنٹ میں یکم جولائی 2015 تا 30 جون 2018 تک رقم منتقل کی گئی، 3 سالوں میں مجموعی طور پر 36 کروڑ 94 لاکھ سے زائد کی رقم جمع کرائی گئی۔ 8 ارب سے زائد کی ٹرانزیکشن کے 8 بے نامی اکاؤنٹس بھی منجمند کیے جا چکے۔ 4 تاجروں پر 5 سالوں میں ایک ارب 26 کروڑ سے زائد کا ٹیکس چوری کرنے کا الزام ہے۔ ملزم زور طالب خان سالار انٹرپرائزز اور سالار مائننگ کا پروپرائٹر ہے۔
تاجر زور طالب خان نے 2012 سے 2017 کے دوران 6 بے نامی اکاؤنٹس کھولے، ملزمان نے 5 سالوں کے دوران 8 بے نامی اکاؤنٹس سے 8 ارب سے زائد کی ٹرانزیکشن کی، بے نامی اکاؤنٹس کا استعمال پینٹ شاپ، ٹرانسپورٹرز، آئل، اسپیئر پارٹس کے کاروبار میں استعمال ہوئے۔ اسکریپ، الیکٹرونکس کے کاروبار میں بھی بے نامی اکاؤنٹس استعمال کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں

سندھ بھر میں کتوں کی بھرمار کے باعث شہریوں کی زندگی کو خطرہ لاحق

سندھ بھر میں کتوں کی بھرمار کے باعث شہریوں کی زندگی کو خطرہ لاحق

کراچی: حکومت سندھ ، محکمہ صحت اور بلدیہ عظمی شہریوں کو بہتر علاج کی سہولیات …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے