دوسروں ,کی, مشکلات اور, مسائل سمجھنے کی حیرت انگیز, صلاحیت

دوسروں کی مشکلات اور مسائل سمجھنے کی حیرت انگیز صلاحیت

مکینک کی اپنی نوکری چھوڑ دی تھی۔ مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے، لیکن میرے اندر ایک آواز مجھ سے کہہ رہی تھی، ‘دیکھو، جو بھی کرنا، زبردست طریقے سے کرنا

دبلا پتلا نوجوان لڑکا پہلی بار ایک ورائیٹی شو میں حصہ لینے کے لیے اسٹیج پر چڑھا۔ چاروں طرف سے طلبا اس پر آوازیں کس رہے تھے
مائیک کی جانب بڑھا، اور حاضرین سے درخواست کی کہ اسے اس کا ٹیلنٹ دکھانے کے لیے صرف 10 منٹ دیے جائیں، اور اگر اس دوران کسی کو پسند نہیں آیا، تو وہ خود اسٹیج سے اتر جائے گا۔ اس نے انتہائی پراعتماد پرفارمنس دی، اور لوگوں نے پلکیں جھپکائے بغیر دیکھا۔ حاضرین میں ساٹھ سالہ شخص بھی ویسے ہی ہنس رہا تھا جیسے کہ کوئی آٹھ سال کا بچہ۔ اور جب 10 منٹ کا مانگا گیا وقت 45 منٹ بعد ختم ہوا، تو ہال تالیوں سے گونج رہا تھا۔
ہر کچھ عرصے بعد اس دنیا میں ایک شخص ایسا آتا ہے، جو اپنے آس پاس موجود ہر چیز کو تبدیل کر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دیکھنے والے بھی یہ جانتے ہیں کہ ایسے شخص کی موجودگی میں انہیں ضرور کچھ زبردست دیکھنے کو ملے گا۔
اور میرے والد معین اختر کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔
معین اختر کے لفظی معنیٰ ‘مددگار ستارہ’ کے ہیں۔ اور ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے نام کی لاج رکھی۔ دنیا میرے والد کو ایک آرٹسٹ کی حیثیت سے جانتی ہے، جبکہ میں انہیں ایک سخی شخص کے طور پر جانتا ہوں۔
میں انہیں اپنے گھر اور انسانیت کی بے لوث خدمت کرتے دیکھتا ہوا بڑھا۔ ہر ضرورت مند شخص کے لیے وہ ایک گمنام مددگار تھے۔ ان کی کئی سخاوتیں ایسی ہیں، جن پر میں پردہ پڑا رہنا چاہتا ہوں، کیونکہ یہی ان کی خواہش تھی۔
میں انہیں روزانہ ہی دیکھا کرتا تھا، لیکن اس کے باوجود ان کی شخصیت ایک میں ایک خوشگوار سی پراسراریت تھی۔ اسٹیج کی طرح گھر میں بھی وہ سب کی توجہ کا مرکز بنے رہتے تھے۔
جب بھی کوئی اجنبی شخص دنیا کے کسی دوسرے کونے سے ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کس طرح میرے والد نے اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دی، تو ہمیں بہت اچھا لگتا ہے۔ مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ میں نے ان کی اچھائیاں خود اپنے سامنے دیکھی ہیں۔
وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں، لیکن ان کی مسحور کن خوشبو اب بھی ہمارے گھر میں باقی ہے۔ ان کی ہنسی اب بھی ہمارے گھر میں گونجتی ہے، اور ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ نبھاتی ہے۔
اپنی ہارٹ سرجری کے صرف 20 دن بعد کینسر کے شکار بچوں کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے شو کرنا ہو، یا ساتھیوں کے واجبات وقت پر ادا کرنے کے لیے اپنی گاڑی بیچنا ہو۔ اجنبیوں کی مدد کرنے کے لیے دوسروں سے پیسے ادھار لینے ہوں، یا چھت پر ستاروں سے باتیں کرتے ہوئے راتیں گزار دینی ہوں۔ نئے آنے والوں کو موقع دینے کے لیے خود کو پیچھے کرنا ہو، یا گرم گرم آنسوؤں کو بھرپور ہنسی سے تبدیل کر دینا ہو، معین اختر کی کہانی ایک عظیم کہانی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کرتارپور راہداری کا افتتاح حقیقی سنگ میل ہے

کراچی: اداکارہ مہوش حیات نےکہا ہے کہ کرتارپور راہداری کا افتتاح کرنا پاکستانیوں کے کشادہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے