’بڑے پیمانے پر دی گئی موت, کی سزا، سعودی, حکام کے انسانی, زندگی, کی طرف ,سخت ,رویے کو ظاہر, کرتی ہیں

’بڑے پیمانے پر دی گئی موت کی سزا، سعودی حکام کے انسانی زندگی کی طرف سخت رویے کو ظاہر کرتی ہیں

سعودی عرب: حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ہلاک کیے جانے والے افراد میں اکثریت شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھی

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ جن افراد کا سر قلم کیا گیا ان میں سے زیادہ تر شیعہ مرد تھے جنھیں ایسے جعلی مقدمات کے ذریعے مجرم ٹھہرایا گیا جو انصاف کے بین الاقوامی معیار کے منافی ہیں اور ان کا انحصار تشدد کے بعد زبردستی لیے گئے اعترافِ جرم سے تھا۔
تنظیم کے مطابق جن افراد کا سر قلم کیا گیا ان میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جسے اس وقت مجرم ٹھہرایا گیا جب اس کی عمر صرف 18 سال تھی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان 37 افراد کے سر قلم کیے جانے کو سعودی عرب میں، سزائے موت میں ایک خطرناک اضافہ قرار دیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی محقق لین مالوف کا کہنا ہے ’بڑے پیمانے پر دی گئی موت کی سزا، سعودی حکام کے انسانی زندگی کی طرف سخت رویے کو ظاہر کرتی ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا ’یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ کیسے سزائے موت کو ایک حربے کے طور پر استعمال کر کے سعودی عرب میں موجود شیعہ اقلیت میں اختلاف رکھنے والوں کو کچلا جا رہا ہے۔‘
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سزائے موت پانے والے افراد میں سے 11 مردوں پر ایران کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام تھا جنھیں ’ایک انتہائی غیر منصفافہ مقدمے کے بعد سزائے موت دی گئی۔‘
اس کے علاوہ 14 افراد کو سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی آبادی والے مشرقی صوبے میں سنہ 2011 اور 2012 کے درمیان ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے جیسے جرائم کی بنا پر سزائے موت دی گئی۔
ایمنسٹی کے مطابق یہ 14 افراد ایک طویل عرصے سے زیرِ حراست تھے اور مقدمات کا سامنا کر رہے تھے جس کے دوران انھوں ںے عدالت کو بتایا تھا کہ جرم کا اعتراف کروانے کے لیے دورانِ تفتیش ان پر تشدد کیا جاتا رہا اور برے سلوک کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔
حقوقِ انسانی کی تنظیم کے مطابق جن افراد کا سر قلم کیا گیا ان میں سے ایک عبدالکریم الحوائج ہیں جنھیں 16 برس کی عمر میں گرفتار کیا گیا اور حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے جیسے جرائم کی بنا پر ان کا سر قلم کر دیا گیا۔
بین الاقوامی قوانین کے مطابق، جرم کے وقت 18 سال سے کم عمر افراد کو سزائے موت دینے کی سختی سے ممانعت ہے۔
یہ سعودی عرب میں جنوری 2016 کے بعد ایک دن میں بڑی تعداد میں سزائے موت دینے کا پہلا واقعہ ہے۔ جنوری 2016 میں سعودی حکام نے ایک دن میں 47 افراد کے سر قلم کیے تھے جن میں ملک کے مشہور شیعہ عالم شیخ نمر النمر بھی شامل تھے۔
سر قلم کرنے کے بعد اس کی لاش کھمبے سے لٹکائی بھی گئی۔ سعودی عرب میں سزائے موت پر عملدرآمد عموما سر قلم کر کے کیا جاتا ہے اور لاش کھمبے سے اس صورت میں کی جاتی ہے اگر حکام کسی جرم کو انتہائی سنجیدہ سمجھیں۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق، سنہ 2018 میں ایک شخص کا سر قلم کر نے کے بعد اسے کی لاش ایسے لٹکائی گئی تھی۔ اس شخص پر ایک خاتون کو چھری مار کر ہلاک کرنے کا الزام تھا اسے ایک اور آدمی کے قتل اور ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش جیسے الزامات کا بھی سامنا تھا۔
سعودی حکومت سزائے موت پانے والے افراد سے متعلق کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کرتی لیکن سرکاری ذرائع ابلاغ اس پر اکثر رپورٹ کرتا رہتا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سعودی عرب میں اس سال کم از کم 104 افراد کا سر قلم کیا گیا جبکہ گذشتہ برس یہ تعداد 149 تھی۔
حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سزائے موت دینے والے ممالک کی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق سعودی عرب کا شمار سب سے زیادہ سزائے موت دینے والے دنیا کے پہلے پانچ ممالک میں ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

برطانوی تیل بردار جہاز کو عالمی قوانین کی خلاف کرنے کے الزام میں قبضے میں لے لیا

برطانوی تیل بردار جہاز کو عالمی قوانین کی خلاف کرنے کے الزام میں قبضے میں لے لیا

تہران: ایرانی رضاکار فورس بیسج (سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی) کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے