صدارتی نظام ریفرنڈم یا پارلیمان سے منظوری کے ذریعے لایا جاسکتا ہے

اسلام آباد: وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ صدارتی نظام ریفرنڈم کے ذریعے لایا جا سکتا ہے ۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے واضح کیا ہے کہ اس وقت وزارت قانون میں صدارتی نظام کے حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں ہو رہی ۔

فی الحال وزیراعظم، کابینہ یا وزارت قانون میں صدارتی نظام کے بارے میں قانون سازی پر غور نہیں ہو رہا، وزارت قانون میں فی الوقت صدارتی نظام کے لیے کوئی قانون سازی نہیں ہو رہی ہے۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ صدارتی نظام ریفرنڈم کے ذریعے لایا جا سکتا ہے ۔ وزیراعظم پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے بھی منظوری لے سکتے ہیں تاہم اس کیلئے دو تہائی اکثریت سے ترمیم کرنا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ صدارتی نظام آئینی طریقے سے لایا جائے تو جمہوری ہوگا، اگر عوام صدارتی نظام لانا چاہیں تو سر آنکھوں پر، عوام کا فیصلہ پارلیمان سے بھی زیادہ مقدم ہے۔

یہ بھی پڑھیں

میں بیوروکریسی کے رویہ سے بہت پریشان ہوں

میں بیوروکریسی کے رویہ سے بہت پریشان ہوں

اسلام آباد: ڈاکٹر عارف علوی نے بتایا کہ ایک شخص نے پریزیڈنٹ ہاؤس میں فائل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے