سپریم کورٹ, کے دو رکنی بینچ نے, اورنج لائن میٹرو, منصوبے کے, مقدمے کی, سماعت

سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اورنج لائن میٹرو منصوبے کے مقدمے کی سماعت

اسلام آباد: جسٹس گلزار نے اورنج ٹرین منصوبے کی رفتار پر پراجیکٹ ڈائریکٹر فضل حلیم پر اظہار برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کی وجہ سے کام تاخیر کا شکار ہوا ہے، کنٹریکٹر کام نہیں کرتے تو انہیں اٹھا کر پھینک دیں اور جیل میں ڈال دیں

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر تعمیراتی کمپنیوں سے بلیک میل ہورہے ہیں، تینوں تعمیراتی کمپنیاں ایک، ایک کروڑ کی گارنٹی دیں اور اگر کام مقررہ تاریخ تک مکمل نہ ہوا تو گارنٹی ضبط کر لی جائے گی۔
تعمیراتی کمپنی کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ ایک کروڑ کی گارنٹی نہیں دے سکتے اور آپ میرے موکل کو جیل بھیج دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 2ارب کی گارنٹی پہلے دے چکے ہیں اور ڈیڑھ ارب روپے کے واجبات باقی ہیں۔
جسٹس گلزار نے کہا کہ آپ نے پہلے بھی گارنٹی دی اور بیان حلفی بھی جو پورا نہیں ہوا، جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ اگر اب ڈیڈ لائن مکمل نہ ہوئی تو جیل بھیج دیں۔
جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ میٹرو ٹرین قومی مفاد کا منصوبہ ہے اور اس پر خطیر رقم خرچ ہوئی ہے۔
جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ منصوبے پر تعمیراتی کام کی معیار کی جانچ کا کوئی طریقہ کار ہے یا نہیں؟، ایسا نہ ہو کہ پراجیکٹ دھڑام سے نیچے آگرے۔

یہ بھی پڑھیں

فریال تالپور کی سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کو یقینی بنانے کے انتظامات کیے جائیں

فریال تالپور کی سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کو یقینی بنانے کے انتظامات کیے جائیں

اسلام آباد: سندھ اسمبلی میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی تاہم بدھ کے روز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے