خواتین کے بارے میں ٹرمپ کی فحش باتوں پر تنقید

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان سنہ 2005 کا ہے جس کی ویڈیو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے حال ہی میں جاری کی ہے۔

اس ویڈیو ٹیپ میں ڈونلڈ ٹرمپ ٹی وی کے میزبان بلی بش کو یہ کہتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں کہ ‘اگر آپ سٹار ہیں تو خواتین کے ساتھ ‘آپ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’

اس ٹیپ میں ارب پتی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ ہم بستری کی کوشش کرنے اور ديگر خواتین کے ساتھ بوس و کنار، چھونے اور پکڑنے کے بارے میں ڈینگیں مارتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ نے اسے پرانی اور ‘لاکر روم کی باتیں’ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے، البتہ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ سابق صدر ‘بل کلنٹن نے تو انھیں اس سے زیادہ خراب باتیں کہہ رکھی ہیں۔’

جب یہ ویڈیو منظر ‏عام پر آئی تو رپبلکن پارٹی کے سینیئر رہنماؤں نے ٹرمپ کو اس پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

سپیکر پال رائن نے رواں ہفتے وسکانسن میں ہونے والی تقریب رپبلکن فال فیسٹ کے دعوت نامے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا نام کاٹ دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے ساتھی اور نائب صدر امیدوار مائک پینس اس تقریب میں ان کی نمائندگی کریں گے۔

سینیٹ کے رہنما مچ میک کونل نے کہا کہ ‘یہ باتیں قابل نفرت ہیں’ اور یہ کہ ‘مسٹر ٹرمپ کو ہر جگہ خواتین اور لڑکیوں سے معافی مانگنی چاہیے۔’

ایک دوسرے سینیئر رہنما جان میک کین نےکہا کہ ‘ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ہتک آمیز اور بے ہودہ باتوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔’

خیال رہے کہ یہ ویڈیو دوسرے صدارتی مباحثے سے دو دن قبل نمودار ہوا ہے۔ یہ ٹی وی مباحثہ سینٹ لوئیس میں منعقد ہو گا جبکہ ووٹنگ میں اب صرف ایک ماہ کی مدت بچی ہے۔

یہ ویڈیو ٹیپ ایکسس ہالی وڈ کے ایک پروگرام کا حصہ تھا جو نشر نہیں کیا گیا تھا۔

اس میں انھیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: ‘میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے اس کے ساتھ کوش کی لیکن ناکام رہا۔ وہ شادی شدہ تھی اور میں نے اس پر کافی زور آزمائی کی۔’

پھر بات کرتے ہوئے انھوں ٹی وی میزبان بش سے کہا: ‘میں فطری طور پر خوبصورت عورتوں کی جانب متوجہ ہو جاتا ہوں اور اکثر انھیں چومنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ویڈیو کے سامنے آنے کے فورا بعد ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ‘یہ لاکر روم گپ شپ ہے اور یہ ذاتی باتیں ہیں جو کئی سال پہلے کی ہیں۔’

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘بل کلنٹن نے ریس کورس میں ان سے اس سے کہیں زیادہ خراب باتیں کہی ہیں، میں تو اس کے آس پاس بھی نہیں۔ میں معافی چاہتا ہوں، اگر کسی کو میں نے تکلیف پہنچائی ہے۔’

جبکہ ٹی وی میزبان نے کہا کہ وہ اس ویڈیو میں موجود چیزوں سے ‘شرمندگی محسوس کر رہے ہیں۔’

انھوں نے کہا: ‘اس کا کوئي جواز نہیں۔ لیکن یہ 11 سال قبل کی بات ہے۔ میں نوجوان، ناپختہ کار تھا اور میں نے بے وقوفی کی۔ مجھے بہت افسوس ہے۔’

یہ بھی پڑھیں

نسل کشی کو دو سال مکمل ہونے پر بنگلادیش میں مقیم روہنگیا کے مسلمانوں کا احتجاجی مارچ

نسل کشی کو دو سال مکمل ہونے پر بنگلادیش میں مقیم روہنگیا کے مسلمانوں کا احتجاجی مارچ

ڈھاکا: ریلی میں موجود افراد نے روہنگیا کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مہاجرین …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے