اپنے مداحوں, سے بچھڑے لگ بھگ, دو دہائیاں, گزرچکی ہیں

اپنے مداحوں سے بچھڑے لگ بھگ دو دہائیاں گزرچکی ہیں

بھارت کے شہر دہلی میں17 اپریل 1942 کو پیدا ہونے والے عزیز میاں قوال نے فن قوالی میں اپنے منفرد انداز سے وہ شہرت حاصل کی جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے

قوالی میں ایسے ایسے مضمون باندھے جو کسی اور کے حصے میں نہ آسکے‘ اس جدت کے سبب انہیں قوال حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید کا بھی سامنا رہا۔
عزیز میاں قوال نے دس سال کی عمر میں قوالی سیکھنا شروع کی اور سولہ سال کی عمر تک قوالی کی تربیت حاصل کرتے رہے‘ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اردو اورعربی میں ایم اے کی تعلیم حاصل کی،تصوف اور معارفت کی محفلوں میں وہ اپنا لکھا ہوا کلام ہی پیش کرتے تھے۔
وجہ شہرت قوالی کے دوران فی البدہیہ اشعار کی آمد ہے‘ وہ پہلے سے تیار قوالی کے ساتھ ساتھ فی البدہیہ اور براہ راست شاعری میں ملکہ رکھتے تھے۔ واحد قوال تھے جو شاعر بھی تھے اور کمپوزر بھی ‘ دوسری جانب تصوف اور معارفت کے منازل سے بھی بخوبی واقف تھے۔

یہ بھی پڑھیں

حنا الطاف کی منیب پر تنقید نے اہلیہ ایمن خان کو طیش دلادیا

حنا الطاف کی منیب پر تنقید نے اہلیہ ایمن خان کو طیش دلادیا

اداکارہ حنا الطاف نے حال ہی میں ایک پروگرام کے دوران اداکار منیب بٹ کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے