کھلی آنکھوں, سے دیکھا تو وہ, ہمارے بچپن کے تصور کی, حقیقی, تصویر ہی, معلوم ہوئے

کھلی آنکھوں سے دیکھا تو وہ ہمارے بچپن کے تصور کی حقیقی تصویر ہی معلوم ہوئے

حیدرآباد: بچپن میں ہمارے لیے یہ ایک تصوراتی دنیا تھی۔ مگر محل اور قلعے کیسے ہوتے ہیں، انہیں جب اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا تو وہ ہمارے بچپن کے تصور کی حقیقی تصویر ہی معلوم ہوئے

آج قلعے بادشاہوں اور ملکاؤں سے خالی ہیں مگر پھر بھی یہ ہمیں اس زمانے کی یاد ضرور دلاتے ہیں جب یہ آباد تھے اور یہاں سے حکم صادر کیے جاتے تھے یا کسی فریادی کی فریاد سنی جاتی تھی۔
محل اور دیگر عالیشان عمارتیں دنیا کے ہر خطے میں نظر آجاتے ہیں۔ اپنے اپنے ادوار میں عوام پر حکمرانی کرنے والے بادشاہوں نے جہاں ان قلعوں میں رہ کر راج کیا ہے، وہاں انہوں نے خود کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بھی مختلف مقامات پر قلعے بنوائے۔ مگر آج ان قلعوں کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ وقت کے زور کے آگے یہ قلعے اپنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں۔ قلعوں کی دنیا جہاں رنگینیوں سے پھرپور ہوا کرتی تھی وہیں محلاتی سازشوں کے قصے بھی انہیں قلعوں کی اونچی دیواروں اور حرم کے اندر پنپتے رہتے تھے۔ پھر ایک روز ایسا بھی آتا ہے کہ تخت گرائے جاتے ہیں اور تاج اچھالے جاتے ہیں۔ لہٰذا یہ قلعے ایسے ویران ہوجاتے ہیں جیسے کبھی آباد تھے ہی نہیں۔ مگر ہر حکمران کے عروج و زوال کی اپنی اپنی کہانی ہوتی ہے۔
آج ذکر کرتے ہیں ایک ایسے ہی قلعے کا، جس کی شان و شوکت کے قصے کئی کتابوں میں درج ہیں۔ اس قلعے سے جڑے کئی تاریخی واقعات بھی تاریخ کے ان اوراق میں درج ہیں، جن کے بغیر سندھ کی تاریخ نامکمل ہے۔ یہ قلعہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں قائم ہے، جسے پکا قلعہ کہا جاتا ہے۔
اسی مقام پر ماضی میں نیرون کوٹ تھا، موجودہ حیدرآباد کی بنیاد میاں غلام شاہ کلہوڑہ نے رکھی، انہوں نے 1768ء میں اس قلعے کی بنیاد رکھی اور درالخلافہ خدا آباد سے حیدرآباد کو بنایا۔

’اے اللہ اس شہر کو امن کا گہورہ بنا
یہ وہ الفاظ تھے جو یہاں سے ملنے والے ایک کتبے پر درج تھے۔ شہروں کے لیے دعائیں تو کی جاسکتی ہیں مگر شہروں کو اجاڑنے والے بھی اسی دنیا میں جنم لیتے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں کئی اجڑے ہوئے شہر ہمیں مدفون حالت میں نظر آتے ہیں۔ برطانوی ڈاکٹر ہیڈل نے حیدرآباد کے حوالے سے تفصیلات دیتے ہوئے لکھا کہ ’حیدرآباد کا قلعہ 40 گز کشادہ کھائی کے ذریعے شہر سے کٹا ہوا تھا اور یہی قلعے کے دفاع کا واحد وسیلہ تھا۔ مذکورہ کھائی چٹان کے باہر جنوبی علاقے کو الگ رکھتی تھی، جس پر قلعہ تعمیر کیا گیا تھا۔ اس لیے آمد و رفت پل کے ذریعے برقرار رکھی جاتی تھی۔ قلعے کے مرکزی دروازے کے آگے جو دفاع کی خاطر ایک نیم گھومتی ہوئی دیوار تھی، اس کے دونوں اطراف ایک گلی تھی جسے اب شاہی بازار کہا جاتا ہے۔
اس قلعے کے اندر جو رہائش بنی ہوئی تھی، اس میں صاحبزادوں کے محل، دیوان خاص، دیوان عام، میروں کے دربار، ملازموں کے کمرے، مسجدیں اور حرم خانے شامل تھے۔
یہ قلعہ اب اپنے اندر ایک پورا شہر بن چکا ہے، جہاں لوگوں کے گھر ہیں، کھیل کا میدان ہے، پارک ہیں، گلیاں اور راہداریاں ہیں۔ لوگ چھوٹے چھوٹے گھروں میں یہاں رہائش پذیر ہیں۔ مگر اب قلعے کی دیواریں ان گھروں کے بوجھ تلے ہی دب رہی ہیں۔ وہاں کی دیواریں اب چُور چُور ہورہی ہیں۔ فصیلیں غائب ہوچکی ہیں اور اندر گٹر نالے بہہ رہے ہیں۔
قلعے کی مرمت اور تحفظ کے لیے محکمہ آرکیالوجی نے 87 کروڑ مختص کیے ہیں مگر اس کے باوجود یہ قلعہ دن بدن زوال کا شکار ہو رہا ہے۔ بارشوں، موسم کی سختیوں اور وقت کی مار قلعے کو بتدریج تباہ حالی کی جانب دھکیل رہی رہے۔ قلعے کے مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی اس کی تباہ حالی نظر آنی شروع ہوجاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بہت, سوں کے, خوابوں کی تعبیر کھو, رہی ہے،, امید ٹوٹ, رہی ہے

بہت سوں کے خوابوں کی تعبیر کھو رہی ہے، امید ٹوٹ رہی ہے

المیہ یہ نہیں کہ پی ٹی آئی کی کارکردگی کچھ اچھی نہیں، افسوس اس بات …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے