ریاستی اداروں, پر تنقید کرنے والے, صحافیوں پر ’سائبر دہشت, گردی‘ کا, مقدمہ چلایا, جارہا ہے

ریاستی اداروں پر تنقید کرنے والے صحافیوں پر ’سائبر دہشت گردی‘ کا مقدمہ چلایا جارہا ہے

کراچی:عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ دنیا نیوز سے وابستہ صحافی، جو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے سے وابستہ رہ چکے ہیں، برقی جرائم کے قانون اور کرمنل کوڈ کی دفعات کے تحت الزامات کا سامنا کررہے ہیں

پاکستان کے قابلِ احترام اداروں کے خلاف ہتک آمیز ریمارکس‘ اور ’سائبر دہشت گردی‘ شامل ہیں اور عالمی تنظیم نے کراچی کی عدالت سے مطالبہ کیا کہ ان الزامات کو مسترد کیا جائے۔
آر ایس ایف ایشیا پیسِفک ڈیسک کے سربراہ ڈینئل بسٹارڈ نے کہا کہ ’پاکستانی حکام مخصوص اداروں پر تنقید کی جرأت کرنے والے صحافیوں کو خاموش کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر قانون کا استعمال کررہے ہیں‘۔
عالمی ادارے کا مزید کہنا تھا کہ ’ریاستی اداروں پر تنقید ہمیشہ سے ملک کے ذرائع ابلاغ کے لیے ایک ممنوعہ موضوع رہا ہے، اگر انہوں نے یہ سرخ سرحد عبور کی تو صحافیوں اور بلاگرز کو مختلف طریقوں سے خوفزدہ کرنے کی کوششوں کی شکایات سامنے آتی ہیں جن میں اغوا، تشدد حتیٰ کے قتل بھی شامل ہے‘۔
’یہ دیکھنا صدمے کا باعث ہے کہ کس طرح آہستہ آہستہ پاکستانی ادارے ملازمین پر سختی کر کے پورے میڈیا کے پیشے کو خوفزدہ کر کے از خود سینسر شپ پر مجبور کررہے ہیں‘
امریکی صحافتی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے ستمبر 2018 میں اپنی جاری کردہ رپورٹ میں سیکیورٹی اداروں پر ’رپورٹنگ پر خاموشی سے مؤثر پابندیاں‘ لگانے کا الزام لگایا تھا۔
شاہ زیب جیلانی کے خلاف درخواست میں 2017 میں دنیا ٹی وی کے ایک پروگرام کے دوران حساس اداروں کے خلاف نامناسب ریمارکس دینے اور وہی ریمارکس دوبارہ 2019 میں دہرانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

امیر کیلئے الگ اور غریب کیلئے الگ نظام نہیں ہوسکتا

امیر کیلئے الگ اور غریب کیلئے الگ نظام نہیں ہوسکتا

کراچی : گورنر ہاؤس میں فوڈ ایکسیلنس ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے