اسکول قائم, کرنے میں, ترک حکومت, کا کوئی کردار نہیں, تھا بلکہ ترک عوام نے, اسکولوں کے, لیے فنڈز دیے, تھے

اسکول قائم کرنے میں ترک حکومت کا کوئی کردار نہیں تھا بلکہ ترک عوام نے اسکولوں کے لیے فنڈز دیے تھے

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پاک-ترک انٹرنیشنل کیگ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے اور اسکولوں کا انتظام ترکی معارف فاؤنڈیشن کو دیے جانے کی درخواست دی تھی

کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزارت داخلہ کو پاک-ترک انٹرنیشنل کیگ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا اندراج انسداد دہشت گردی ایکٹ کی سیکشن بی 11 کے تحت کرنے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے حکم دیا تھا کہ وزارت خزانہ تمام اکاؤنٹس ترکی معارف فاؤنڈیشن کو منتقل کرنے کا انتظام کرے، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) پاک-ترک انٹرنیشنل کیگ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی رجسٹریشن منسوخ کرے۔
گزشتہ روز جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی سماعت کی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ترک حکومت اور ترک سپریم کورٹ اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دے چکی ہے اور دیگر 40 ممالک بھی ان اسکولوں کو بند کر چکے ہیں۔
سماعت کے دوران پاک ترک اسکول انتظامیہ کے وکیل نے کہا کہ اسکول قائم کرنے میں ترک حکومت کا کوئی کردار نہیں تھا بلکہ ترک عوام نے اسکولوں کے لیے فنڈز دیے تھے۔
جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ترک حکومت اور سپریم کورٹ اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔
اس پر پاک ترک اسکولز کے وکیل نے کہا کہ ملائیشیا میں ان اسکولوں کو بند نہیں کیا گیا جس پرجسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ آپ بھی ملائیشیا چلے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں

سپریم کورٹ سے یہ صادق اور امین نہ ہونے کا سرٹیفکیٹ لے چکے ہیں

سپریم کورٹ سے یہ صادق اور امین نہ ہونے کا سرٹیفکیٹ لے چکے ہیں

اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر اور اٹارنی جنرل انور منصور خان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے