سنہ 1919 کا سانحہ, جلیانوالہ باغ, برطانوی انڈین, تاریخ پر, شرمناک داغ ہے

سنہ 1919 کا سانحہ جلیانوالہ باغ برطانوی انڈین تاریخ پر شرمناک داغ ہے

سنہ 1919 میں برصغیر میں برطانیہ کا راج تھا۔ امرتسر میں موجود جلیانوالہ باغ میں کچھ قوم پرست برطانوی راج کے نئے ٹیکس اور ہندوستانیوں کی فوج میں جبری بھرتی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔اسی اثنا میں عوام کی بڑی تعداد بیساکھی کے میلے میں شرکت کے لیے بھی وہاں موجود تھی

اس وقت برطانوی راج نے بڑے عوامی اجتماعات کو روکنے کے لیے شہر میں مارشل لا نافذ کیا ہوا تھا۔
ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے بریگیڈیئر جنرل آر ای ایچ ڈائر کو بھیجا گیا جنھوں نے لوگوں کو متنبہ کیے بغیر گولی چلانے کا حکم دے دیا۔ جب تک سپاہیوں کی گولیاں ختم نہ ہوئیں فائرنگ جاری رہی۔
اس افسوس ناک واقعے میں برطانوی سرکاری ذرائع کے مطابق 379 افراد ہلاک ہوئے لیکن برصغیر کے مورخین کا ماننا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 1000 کے قریب تھی۔
اس واقعے کے 100 برس مکمل ہونے پر گذشتہ بدھ کو برطانیہ کی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم ٹریزامے نے اس واقعے پر ’افسوس‘ کا اظہار کیا لیکن باضابطہ معافی ہیں مانگی۔
انھوں نے کہا ’ سنہ 1919 کا سانحہ جلیانوالہ باغ برطانوی انڈین تاریخ پر شرمناک داغ ہے۔‘
اس پر برطانیہ کی لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے کہا کہ امرتسر قتل عام پر واضح معافی مانگنی چاہیے۔
انڈین سیاستدان اور کانگرس پارٹی کے راہنما ششی تھرور نے اس موقع پر ٹویٹ میں کہا کہ افسوس کا اظہار پہلا مثبت قدم ہے تاہم یہ کافینہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ برطانیہ کو معافی مانگنی ہو گی اور صرف ایک ظلم پر نہیں بلکہ برطانوی راج کے دوران ڈھائے گئے تمام مظالم کا کفارہ ادا کرنا ہو گا۔
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے معافی کے مطالبے کی حمایت کی۔
انھوں نے کہا کہ وہ اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ برطانیہ کو جلیانوالہ باغ کے قتل عام اور بنگال کے قحط پر پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش سے معافی مانگنی چاہیے۔
ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کوہ نور ہیرے کو لاہور عجائب گھر کو واپس دیا جائے ’جہاں اسے ہونا چاہیے۔
کوئنز میری یونیورسٹی لندن کے لیکچرار اور تاریخ دان ڈاکٹر کرس موفٹ نے کہا ’آج کے برطانیہ کو استعمار کے تشدد اور عالمی سلطنت کے گہرے اور نقصان دہ نتائج کو تسلیم کرنے کا کافی سفر طے کرنا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بریگزٹ کے وجہ سے موجودہ صورت حال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے جہاں دائیں بازو کی آوازیں فخر سے یہ دعوے کرتی ہیں کہ برطانیہ کے راج کی تاریخ پر کسی کو شرمندگی نہیں ہونی چاہیے۔
ڈاکٹر کرس کہتے ہیں کہ اس وقت جب شدید دائیں بازو اور نسل پرست تحریکیں بڑھ رہی ہیں، یہ بہت ضروری ہے کہ برطانیہ جلد از جلد اپنے تلخ ماضی اور اس کی دیرپا میراث کا سامنا کر کے اسے نمٹائے۔
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر اور ماہر سیاسیات ڈاکٹر تیمور رحمٰن کہتے ہیں ’جلیانوالہ باغ میں ہونے والا قتل عام استعمار کے سلسلے کا ایک واقعہ تھا، محض ایک واقعے پر معافی مانگنا اہم نہیں ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ برطانیہ کے لوگ اپنی تاریخی میراث کو کیسے دیکھتے ہیں اور انڈین، پاکستانی اور بنگلہ دیشی لوگ اسے کیسے سمجھتے ہیں اور اس پر کیسے قابو پاتے ہیں؟۔

یہ بھی پڑھیں

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی چوکی پر فائرنگ، فلسطینی خاتون شہید

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی چوکی پر فائرنگ، فلسطینی خاتون شہید

مقبوضہ بیت القدس:  قابض صہیونی فوج نے بدھ کو مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے