کوئٹہ کی سبزی منڈی, میں دھماکے سے ہلاک, افراد کی, تعداد 20 ہو گئی

کوئٹہ کی سبزی منڈی میں دھماکے سے ہلاک افراد کی تعداد 20 ہو گئی

کوئٹہ: وزیر داخلہ بلوچستان ضیا اللہ لانگو نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ دھماکہ خود کش تھا جبکہ اس سے قبل ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس عبد الرزاق چیمہ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ دھماکہ آلووں کے گودام میں ہوا ہے

یہ خود کش دھماکہ جمعے کی صبح ہزار گنجی کے علاقے میں واقع پھل اور سبزی مارکیٹ میں ہوا۔ مرنے والوں میں ہزارہ برادری کے آٹھ افراد کے علاوہ ایک سکیورٹی اہلکار اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔
دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنائی دی۔
ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کو سول ہسپتال، بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال اور شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
رابطہ کرنے پر سول ہسپتال کوئٹہ کے ترجمان وسیم بیگ نے بتایا کہ سول ہسپتال میں 11 لاشیں لائی گئی ہیں جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔
ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس عبد الرزاق چیمہ نے بتایا کہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے پھل اور سبزی فروشوں کو سکیورٹی میں ہزار گنجی منڈی لایا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ جب ان لوگوں کو لایا جاتا ہے تو سکیورٹی اہلکار چار مین گیٹس پر ڈیوٹی دینے کے علاوہ مارکیٹ میں بھی گشت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد آلووں کے گودام پر آئے تو زوردار دھماکہ ہوا۔ ہلاک ہونے والوں میں سے 8افراد کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے جبکہ ان میں ایک سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں ہزارہ قبیلے کے علاوہ دیگر برادریوں کے لوگ بھی شامل ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ دھماکے کی نوعیت کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں ہزارہ قبیلے کے علاوہ دیگر لوگ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس لیے اس بات کا تعین تحقیقات کے بعد کیا جاسکے گا کہ اس حملے کا ہدف کون لوگ تھے۔
انھوں نے کہا کہ دہشت گرد تو سب لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
اس علاقے میں پہلے بھی ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے سبزی اور پھل فروشوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
ماضی میں ہونے والے حملوں کے پیش نظر انہیں مری آباد اور ہزارہ ٹاؤن کے علاقوں سے سکیورٹی میں لایا جاتا ہے اور سبزی اور پھلوں کی خریداری کے بعد واپس لے جایا جاتا ہے۔
انہیں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ان پر حملوں کی ذمہ داری کالعدم مذہبی شدت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کوئٹہ, میں شدید ,بارش اور, سرد موسم کے باوجود ہزارہ برادری کا, دھرنا چوتھے, روز بھی, جاری

کوئٹہ میں شدید بارش اور سرد موسم کے باوجود ہزارہ برادری کا دھرنا چوتھے روز بھی جاری

کوئٹہ: جمعہ کو کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں ہونے والے دھماکے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے