نیلورفیکٹری ایریا میں, زمین واگزار کرنے سے, متعلق کیس, کی سماعت

نیلورفیکٹری ایریا میں زمین واگزار کرنے سے متعلق کیس کی سماعت

اسلام آباد: جمعرات کو جسٹس گلزارِاحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے نیلورفیکٹری ایریا میں زمین واگزار کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی

جسٹس گلزارنے متاثرین کی دادرسی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حساس ادارے کی ہوتے ہوئے علاقے میں آبادی کیسے بن گئی بہتر ہے وزارت دفاع ساراعلاقہ ہی ایکوائیرکرلے حکومت کوئی مناسب حل نکالے ۔
فیکٹری توابھی لگی لیکن مکین توصدیوں سے آباد ہیں اس کیس میں عدالت کیا فیصلہ کرے؟ انتظامیہ نے اسلام آباد کو جو حال کیا سب کے سامنے ہے ۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایاکہ سپریم کورٹ نے7نومبر2014کوغیرقانونی تعمیرات گرانے کا حکم دیا تھا جس پرعملدرآمد کیلئے کارروائی کی جارہی ہے
جسٹس گلزاراحمد نے عدالتی حکم پرعملدرآمد کرنے کی ہدایت کی تو متاثرین کے وکیل نے علاقے کے منتخب رکنی اسمبلی کا مؤقف سنے کی استدعا کی جس پر جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی حکم کے بعد ایم این اے ہوں یا پھر وزیراعظم اس سے کوئی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
سپریم کورٹ نے سی ڈی اے اور اسلام آباد انتظامیہ سے حکم پرعملدرآمد سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 4ہفتوں کیلئے ملتوی کردی ۔

یہ بھی پڑھیں

سمجھ نہیں آتا ن لیگ اپنے لیڈر کی زندگی سے کیوں کھیل رہی ہے

سمجھ نہیں آتا ن لیگ اپنے لیڈر کی زندگی سے کیوں کھیل رہی ہے

اسلام آباد: اگر نواز شریف کی حالت واقعی خراب ہے تو ضمانتی بانڈ کا مسئلہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے