عمر البشیر پر, سوڈان میں 2003 میں, شروع ہونے والی بغاوت, میں, نسلی کشی کے, الزامات

عمر البشیر پر سوڈان میں 2003 میں شروع ہونے والی بغاوت میں نسلی کشی کے الزامات

سوڈان: گزشتہ کئی ماہ سے صدر عمر البشیر کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے احتجاج جاری ہے جس کے بعد جمعرات کو سرکاری ٹی وی نے اعلان کیا کہ مسلح افواج بہت جلد ایک اہم بیان جاری کریں گی

مسلح افواج صدر عمر البشیر کے 30 سالہ دور حکومت کے خلاف کئی مہینوں سے جاری احتجاج اور ان کے خلاف مسلح بغاوت کی قیاس آرائیوں سے متعلق اہم اعلان کریں گی۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق ’مسلح افواج بہت جلد ایک اہم بیان جاری کریں گی۔ اس کے لیے تیار ہو جائیں۔
خرطوم میں وزارت دفاع کے دفتر کے باہر ہزاروں افراد کے حکومت مخالف مظاہرے کے بعد فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
شہر کی اہم شاہراؤں پر بھی فوج اور سکیورٹی ایجینسی کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق العربیہ ٹی وی کا کہنا ہے کہ صدر عمر البشیر استعفی دے چکے ہیں جبکہ وزیر دفاع سمیت کئی حکومتی اہلکاروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی تصدیق موجود نہیں ہے۔
ملک میں ابھی اس اعلان کا انتظار جاری تھا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد خرطوم میں موجود وزارت دفاع کے دفتر کے باہر جاری دھرنے میں شامل ہو گئی۔ جہاں مظاہرین نے ’یہ (حکومت) گر چکی ہے، ہم جیت گئے‘ کے نعرے لگائے۔
سوڈان ایک طویل عرصے سے تنہائی کا شکار ہے جب 1993 میں امریکہ نے صدر عمر البشیر کی حکومت کو اسلامی عسکریت پسندوں کو پناہ دینے پر دہشت گردی کی امداد کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
چار سال بعد واشنگٹن نے سوڈان پر پابندیوں کا بھی اعلان کیا تھا۔
جرائم کی عالمی عدالت میں عمر البشیر پر سوڈان میں 2003 میں شروع ہونے والی بغاوت میں نسلی کشی کے الزامات بھی ہیں۔

سوڈان کی تاریخ میں فوج کا کردار

1956 میں سوڈان کی آزادی کے بعد سے ہی ملک کی سیاست میں مسلح افواج نے اہم کردار ادا کیا ہے:
آزادی کے صرف دو سال بعد ہی 1958 میں چیف آف سٹاف میجر جنرل ابراہیم آبود نے ایک خونی بغاوت کے بعد اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
1964 کی ایک مقبول بغاوت نے فوج کو اقتدار چھوڑنے پر مجور کر دیا۔
تاہم 1969 میں کرنل جعفر النیمیری کی سربراہی میں ایک اور بغاوت کے بعد اقتدار واپس فوج کے پاس آگیا۔ جعفر النیمیری کو خود کئی بغاوتوں کا سامنا رہا۔
1985 میں لیفٹیننٹ جنرل عبد الرحمان سوار الدحاب کی سربراہی میں فوجی سربراہان کے ایک گروہ نے النیمیری کو اقتدار سے نکال باہر کیا۔
ایک سال بعد الدحاب نے تمام اختیارات منتخب حکومت کے وزیراعظم الصادق الماہدی کے حوالے کر دیے۔
تین سال بعد جون 1989 میں بریگیڈیئر عمر البشیر کی سربراہی میں اسلامی فوجی سربراہان نے الماہدی کے غیر مستحکم اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔
30 سال سے عمر البشیر اقتدار میں ہیں اور ان کی حکومت کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

امریکا نے فلسطینی سرزمین پر قابض یہودی بستیاں قانونی قرار دے دیں

امریکا نے فلسطینی سرزمین پر قابض یہودی بستیاں قانونی قرار دے دیں

واشنگٹن: مظلوم فلسطینیوں کی آزادی تحریک پر قدغن لگانے کی کوششیں کی جانے لگیں، ٹرمپ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے