انڈیا, میں 17ویں, عام انتخابات, کے پہلے مرحلے, کے لیے, پولنگ کا, عمل جاری

انڈیا میں 17ویں عام انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے پولنگ کا عمل جاری

انڈیا: سات مرحلوں پر مشتمل یہ الیکشن 19 مئی تک جاری رہے گا جب کہ ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان 23 مئی کو ہو گا۔ اس الیکشن کو ملک کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی پر ریفرینڈم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے

پہلے مرحلے میں ملک کی 20 ریاستوں کے 91 حلقوں میں کروڑوں لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے اور ان کے لیے دس لاکھ پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔
ان انتخابات میں 90 کروڑ کے لگ بھگ افراد اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے اور اسے دنیا کا سب سے بڑا الیکشن قرار دیا جا رہا ہے۔
لوک سبھا میں کل 543 نسشتیں ہیں اور کسی بھی پارٹی یا اتحاد کو اپنی حکومت بنانے کے لیے کم از کم 272 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا ضروری ہے۔
بی جے پی اپنی اکثریت کو برقرار رکھنے کے لیے زوروشور سے مہم کرتی رہی ہے تاہم مضبوط علاقائی جماعتوں اور راہول گاندھی کی کانگرس پارٹی کی وجہ سے اسے کئی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
راہل گاندھی کے والد، دادی اور پر دادا انڈیا کے سابق وزرائے اعظم رہ چکے ہیں۔ ان کی ہمشیرہ پریانکا گاندھی نے حال ہی میں سیاست میں قدم رکھا ہے۔
موجودہ انتخابات 39 دن تک جاری رہے گے لیکن اس کے باوجود انھیں انڈیا کا طویل ترین الیکشن نہیں کہا جا سکتا۔
یہ اعزاز 1952 میں انڈیا میں ہونے والے پہلے عام انتخابات کے پاس ہے جو کہ 25 اکتوبر 1951 سے 21 فروری 1952 تک جاری رہے۔
سنہ 1962 سے 1989 کے دوران انتخابات کا دورانیہ چار اور دس دن کے درمیان رہا تاہم 1980 کا الیکشن ملک کا سب سے مختصر الیکشن ہے جو صرف چار دن تک جاری رہا۔ ان انتخابات میں اندرا گاندھی کامیاب ہو کر وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئی تھیں۔
جمعرات کو جن ریاستوں میں عوام اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں ان میں آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، جموں و کشمیر، مہاراشٹر، منی پور، میگھیالہ، میزورام، ناگالینڈ، اڑیسہ، سکم، تلنگامہ، تریپورہ، اترپردیش، اتراکھنڈ، مغربی بنگال، جزائر اینڈیمان اور نکوبار اور لکشدویپ شامل ہیں۔
کچھ ریاستوں جیسے کہ آندھرا پردیش اور ناگالینڈ میں پولنگ کا عمل ایک دن میں مکمل ہو جائے گا جبکہ اترپردیش جیسی بڑی ریاستوں میں کئی مراحل میں پولنگ ہو گی۔
جمعرات کی صبح سے ہی عوام کی بڑی تعداد پولنگ مراکز کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئی تھی۔ آسام میں تو پولنگ سے ایک گھنٹہ قبل قطاریں لگ گئی تھیں۔
انڈیا میں پہلی بار الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا اسعتمال 1982 میں کیا گیا تاہم ماضی میں ہار جانے والی جماعتوں کی جانب سے ان مشینوں کے ہیک ہونے کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

مشرقی فرانس میں ایک مسجد پر کار سے حملہ

مشرقی فرانس میں ایک مسجد پر کار سے حملہ

فرانس کے مشرقی علاقے کی ایک مسجد پر گاڑی سے حملہ کیا گیا ہے رشاٹوڈے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے