کسی بھی, جماعت کو پارلیمان, میں سادہ ,اکثریت نہیں, ملی ہے

کسی بھی جماعت کو پارلیمان میں سادہ اکثریت نہیں ملی ہے

تل ابیب: اسرائیل کے تین مرکزی نیوزٹی وی چینلز نے بھی وزیرِ اعظم کی جماعت ‘لیکوڈ’ کی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ حکمران جماعت کی کامیابی کے بعد نیتن یاہو کے لیے پانچویں بار وزیرِ اعظم بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے

اب تک کے نتائج کے مطابق 120 رکنی پارلیمان میں ‘لیکوڈ’ پارٹی اور اس کی حریف ‘بلیو اینڈ وائٹ’پارٹی کو 35، 35 نشستیں ملی ہیں۔ لیکن جائزوں کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت کی پوزیشن مستحکم ہے کیوں کہ پارلیمان اور وہ بآسانی انتخاب میں کامیاب ہونے والی دائیں بازو کی چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکتی ہے۔
نتخابات مین نیتن یاہو اور ان کی جماعت کا سابق آرمی چیف بینی گینٹز کی ‘بلیو اینڈ وائٹ’ پارٹی سے سخت مقابلہ درپیش تھا۔ ٹی وی چینلز کے مطابق اب تک 97 فی صد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے جس کے مطابق کسی بھی جماعت کو پارلیمان میں سادہ اکثریت نہیں ملی ہے۔
پارلیمان میں عرب، معتدل اور بائیں بازو کی جماعتوں کے مقابلے میں دائیں بازو کی اور مذہی جماعتیں زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں جن کا لازمی جھکاؤ نیتن یاہو کی طرف ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان جمعے تک متوقع ہے۔ اگر لیکوڈ پارٹی کی کامیابی سے متعلق ابتدائی نتائج درست ہوئے تو 69 سالہ نیتن یاہو اسرائیل کی 71 سالہ تاریخ میں طویل ترین عرصے تک وزیرِ اعظم رہنے والے رہنما بن جائیں گے۔
ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد منگل کی شب لیکوڈ پارٹی کے صدر دفتر میں جمع کارکنوں سے خطاب میں نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ انہوں نے حکومت سازی کے لیے متوقع اتحادیوں سے مذاکرات شروع کردیے ہیں۔
جماعتوں کی جانب سے اپنی پسند واضح کرنے کے بعد صدر سب سے زیادہ نشستیں رکھنے والی جماعت کے سربراہ کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔
یتن یاہو کی جماعت کی کامیابی کی خبروں پر فلسطینی اتھارٹی کے اعلیٰ مذاکرات صائب اراکات نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ اسرائیل کے شہریوں نے اسٹیٹس کو کے حق میں ووٹ دیا ہے اور واضح کردیا ہے کہ وہ امن نہیں چاہتے۔ فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیلی عوام نے نیتن یاہو کو ووٹ دے کر بتادیا ہے کہ وہ امن نہیں چاہتے۔

یہ بھی پڑھیں

افغان صدر پر چیف ایگزیکٹیو کا الزام

افغان صدر پر چیف ایگزیکٹیو کا الزام

افغانستان کے چیف ایگزیکٹیوعبداللہ عبداللہ نے صدر اشرف غنی پر انتخابی مہم کے دوران سرکاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے