امریکہ،نائب صدرمباحثہ کے درمیان تلخ کلامی

ریاست ورجینیا میں ہونے والا دلچسپ بحث و مباحثہ ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے نائب مائیک پنس اور ڈیموکریٹیک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار ہلری کلنٹن کے نائب ٹم کین کے درمیان تھا۔

دونوں نائب صدور نے اپنے اپنے صدر کی حمایت گرم گرما دلائل دیے اور مدمقابل کو کڑی تنقید سے پچھاڑنے کی کوشش کی اس دوران نائب صدور کے درمیان ہونے والا بحث و مباحثہ طول پکڑ گیا اور بات تلخ جملوں کے تبادلے تک جا پہنچی۔

نائب ریپبلکن صدارتی امیدوار مائیک پنس نے تبدیلی کانعرہ لگاتے ہوئے کہاکہ امریکی عوام جانتےہیں اب تبدیلی کا وقت آگیا ہے امریکی عوام ملک میں حقیقی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں جو کہ انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں نظر آتی ہے۔

صدارتی امیدوارڈونلڈٹرمپ کے نائب مائیک پنس نے کہاکہ ٹرمپ کا اولین کا منصوبہ غیرقانونی امیگریشن سے نمٹناہے اس کے لیے ملک کوکرمنل جسٹس ریفارم کی ضرورت ہے اور تمام غیر قانونی مہاجرین کو ملک سے بیدخل کردیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع نائب صدر نے کہا کہ ہمیں سانحات پرسیاست سے گریز کرنا ہوگا اور ملکی مفاد کو تماتر سیاسی مہمات سے بالاتر رکھنا ہو گا۔

ہلری کلنٹن کے نائب صدر ٹم کین نے اس موقع پرکہا کہ ہلیری کلنٹن کے نائب صدر کے طور پر انتخاب لڑنا میرے لیے اعزاز ہے،ہلیری کلنٹن پُرعزم اوربا اعتماد سیاست دان ہیں جن کی قائدانہ صلاحیتوں پرمکمل اعتماد کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہلری کلنٹن عوام کی خدمت پریقین رکھتی ہیں ہلیری خود پردوسروں کو ترجیع دیتی ہیں وہ مغرور نہیں جب کہ ڈونلڈٹرمپ احساس برتری میں مبتلا ہیں اور دوسروں پرخود کوترجیح دینے کے مرض میں مبتلا ہیں۔

ٹم کین نے ڈونلڈ ٹرمپ کے نفرت آمیز بیانات کی مذت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے قوم سے اتنا بڑاجھوٹ بولا کہ صدراوباما امریکی شہری ہی نہیں ہے۔

اس دوران دونوں نائب صدور کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے باعث پروگرام میں کچھ تلخی پیدا ہوگئی اور بات نوک جھوک تک جا پہنچی تا ہم پروگرام کی میزبان نے دونوں امیدواروں کو اپنا اپنا موقف پوری طرح پیش کرنے کا موقع دیا۔

یہ بھی پڑھیں

مودی کو یو اے ای کے سب سے بڑے سویلین ایوارڈ سے نواز دیا گیا

ابو ظہبی: متحدہ عرب امارات نے بھارتی وزیراعطم نریندر مودی کو ملک کے سب سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے