ہندو انتہا پسندی کا ایک اور افسوس ناک واقعہ

نئی دہلی: بھارتی ریاست آسام میںہندو انتہا پسندوں کا مسلمان بزرگ پر گوشت فروخت کرنے کا الزام عائد کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا.

آسام کے شوکت علی کو گائے کا گوشت فروخت کرنے کا الزام لگا کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ 68 سالہ شہری کو کیچڑ میں بٹھا کر تذلیل کی گئی، بزرگ شہری کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

گائے کا محافط کہنے والے بی جی پی کے غنڈوں نے مظلوم مسلمان کو حرام گوشت کھانے پر بھی مجبور کیا.

واقعے کے بعد بھارت کے باشعور طبقے کی جانب سے شدید ردعمل آگیا. سوشل میڈیا پر موقف اختیار کیا کہ بھارت میں انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ دے گئی اور مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا گیا ہے.

یہ بھی پڑھیں

لینڈ سلائیڈنگ سے 100 سے زائد افراد ہلاک

لینڈ سلائیڈنگ سے 100 سے زائد افراد ہلاک

میانمار: حکام کا کا بتانا ہےکہ ریسکیو آپریشن میں اب تک 113 کان کنوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے