نام بدل کر کام کرنے والی 20 سے زائد تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی

اسلام آباد: دہشتگردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے تحت اس وقت 8 ہزار 3 سو 7 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے ہیں

مزید کہا گیا کہ 4 ہزار 8 سو 63 افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرکے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ان اکاؤنٹس سے 13 کروڑ 60 لاکھ روپے بھی ضبط کیے ہیں۔
مذکورہ کارروائی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کی شرائط کے بعد عمل میں آئی۔
4 مارچ 2019 کو وفاقی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے پابندی کے شکار افراد اور تنظیموں کو کنٹرول میں لے کر ان کے اکاؤنٹ منجمد کرنے کے لیے سلامتی کونسل آرڈر 2019 جاری کیا تھا۔
اے ٹی اے میں سال 2012 میں کی جانے والی ترمیم کے بعد پولیس کو یہ اختیار حاصل ہوگیا تھا کہ وہ اس فہرست میں شامل افراد سے ان کی نقل و حمل کی بابت دریافت کرسکے اور عوامی مقامات مثلاً کالجوں، ریسٹورنٹس، اسکول وغیرہ جنہیں دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے، سے دور رہنے کی ہدایت کرے۔

یہ بھی پڑھیں

فریال تالپور کی سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کو یقینی بنانے کے انتظامات کیے جائیں

فریال تالپور کی سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کو یقینی بنانے کے انتظامات کیے جائیں

اسلام آباد: سندھ اسمبلی میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی تاہم بدھ کے روز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے