کوئی, انسان خود کو اس قدر چاہنے, لگے کہ اور اسے کوئی, دوسر اچھا, ہی نہ لگے تو یہ, خود پسندی ایک نفسیاتی, مرض بن ,جاتی ہے

کوئی انسان خود کو اس قدر چاہنے لگے کہ اور اسے کوئی دوسر اچھا ہی نہ لگے تو یہ خود پسندی ایک نفسیاتی مرض بن جاتی ہے

شاید ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی ہی تصویر بنانا یا ’سیلفی‘ کوئی نئی چیز ہے۔ جہاں تک اس لفظ کا تعلق ہے تو یہ پہلی مرتبہ سنہ 2013 میں آکسفرڈ انگلش ڈکشنری میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس کے بعد نہایت تیزی سے دنیا بھر میں پھیل گیا

لیکن سیلفیاں بنانا اتنا ہی پرانا ہے جتنی خود فوٹوگرافی۔ دنیا میں پہلی سیلفی 1839 میں ایک امریکی شہری نے بنائی تھی جن کا نام روبرٹ کارنیلیئس تھا۔
لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم ہر صبح غسل خانے کے آئینے میں خود کو سراہ لیتے ہیں تو پھر ہم دن بھر سیلفی کیوں لیتے رہتے ہیں۔
یہ ذرا عجیب سے بات لگتی ہے ۔ ہے نا؟ ہمارے اس خاص انسانی رویے کے بارے میں سگمنڈ فرائڈ سے بہتر کون بتا سکتا ہے۔
مجھے خود سے پیار ہے، دیکھیں گے تو آپ کو بھی ہو جائے گا
فرائڈ نے نہ صرف انسانی عادات اور حرکات کے سائنسی مطالعے کی بنیاد رکھی بلکہ آسٹریا میں پیدا ہونے والے اس ماہرِ نفسیات نے کئی اصطلاحوں کو عام لوگوں میں بھی مقبول بنا دیا، جیسے ایگو (شعوری ذہن) ان کانشس (لاشعور) اور نفسیاتی علاج (تھیراپی) وغیرہ۔
ان اصطلاحوں میں ایک اور اصطلاح بھی شامل ہے اور وہ ہے نارسسزم یا ’نرگسیت‘ یعنی خود سے بہت زیاد پیار۔
یونانی دیو مالائی کہانیوں کے مطابق نارسیسس نامی ایک نوجوان ایک دن دریا کے کنارے چلا جا رہا تھا تو اسے پانی پینے کا خیال آیا۔ جب وہ پانی پینے کے لیے دریا میں جھکا تو اسے اپنا عکس دکھائی دیا۔ وہ اپنی خوبصورتی کی تعریف کرنے میں اتنا محو ہو گیا کہ اپنے ارد گرد سے بالکل بے خبر ہو گیا۔
آخر وہ اپنے ہی عکس کو گلے لگانے کی کوشش میں دریا میں ڈوب گیا۔
فرائڈ کہتے ہیں کہ تھوڑی سے خود پسندی ایک قدرتی بات ہے۔
لیکن جب کوئی انسان خود کو اس قدر چاہنے لگے کہ اور اسے کوئی دوسر اچھا ہی نہ لگے تو یہ خود پسندی ایک نفسیاتی مرض بن جاتی ہے۔
نرگسیت سے ہماری مراد اسی قسم کی خود پسندی ہے۔

نرگسیت کا ٹیسٹ

ماہرین نفسیات نے نرگسیت جیسے نفسیاتی مسائل کو سمجھنے کے لیے کئی قسم کے تجربات یا ٹیسٹ بنائے ہیں۔

ان ٹیسٹ کے کچھ نتائج کچھ یوں ہیں:

لیکن صرف مردوں کی صورت میں
مردوں کے مقابلے میں خواتین نرگسیت کی شکار کم ہوتی ہیں، حالانکہ خواتین مردوں کی نسبت زیادہ سیلفیاں پوسٹ کرتی ہیں۔
تاہم، امریکی ماہر نفسیات جین ٹوینگ کہتی ہیں کہ لوگوں میں نرگسیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور خاص طور پر گذشتہ دس برسوں میں نرگسیت میں اسی شرح سے اضافہ ہوا ہے جس شرح سے موٹاپے میں اضافہ ہوا ہے۔

ہر وقت صوفے پر
فرائڈ نے انسانی نفسیات سے متعلق جو نظریے ہیش کیے ہیں ان کی اکثریت کی بنیاد ان کا اپنا مشاہدہ تھا۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آج کل جس قدر معلومات ہم انسانی عادتوں کے حوالے سے جمع کر سکتے ہیں، وہ فرائڈ جیسے ماہر کے لیے بہت زیادہ دلچسپی کا سامان ہوتیں۔
اگر وہ آج زندہ ہوتے تو یقیناً سیلفی کے رجحان کا تجزیہ کرنا پسند کرتے۔
وہ اس بات کو نوٹ کرتے کہ زیادہ تر لوگ سوشل میڈیا پر سیلفیاں اس لیے پوسٹ نہیں کرتے کہ انھیں خود سے بہت پیار ہوتا ہے، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کو دیکھنے والا ہر شخص ان سے پیار کرے۔

توجہ حاصل کرنے کی خواہش

ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ فرائڈ جب انیسویں صدی کے آخری برسوں میں نرگسیت جیسے موضوعات پر تحقیق کر رہے تھے تو جنسی رجحانات اور جنسی میلان کے اظہار پر بہت دباؤ ہوا کرتا تھا۔
ان دنوں میں خواتین اور مردوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھا جاتا تھا اور انھیں یہ پڑھایا جاتا تھا کہ جنسی میلان کا اظہار کرنے پر انھیں شرمندگی ہونا چاہیے اور جنسی تعلق سے لطف اٹھانا تو بہت ہی بری بات ہے۔
یہاں تک کے ویانا کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے فرائڈ کے مریضوں کی اکثریت ’ہسٹیریکل پیرالیسِز‘ یا ’ہیجانی فالج‘ میں مبتلا تھی۔۔ ہیجانی فالج ایک ایسی کیفیت کو کہتے ہیں جس میں انسان کسی واضح جسمانی وجہ کے بغیر اٹھ کر چل نہ سکے۔
فرائڈ کا خیال تھا کہ ان خواتین کے نہ چلنے پھرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگوں کی توجہ کا مرکز نہیں بننا چاہتی تھیں۔
تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر ہمیں لوگوں کی توجہ کی اتنی زیادہ ضرورت پڑتی ہے تو بہتر نہیں کہ ڈھیٹ ہو جائیں اور کچھ سیلفیاں سوشل میڈیا پر شیئر کرلیں؟
شاید یہ بات درست ہو، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کا خبط کوئی غیر صحتمندانہ علامت نہیں ہے۔ یہ نہ صرف سیلفی لگانے والے کے لیے بری ہے بلکہ دیکھنے والے پر بھی اس کے منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔
خوش، لیکن بس گزارا ہی ہے
سیلفی بنا کر اور پھر اسے بڑی احتیاط کے ساتھ ایڈٹ کر کے زیادہ تر یہ دکھایا جاتا ہے کہ آپ بڑی زبردست زندگی گزار رہے ہیں۔
اسی لیے آج کل ہمارے ارد گرد ایسی تصویروں کا انبار لگا رہتا ہے جس میں لوگ شاندار زندگی گزارتے نظر آتے ہیں اور وہ جسمانی طور پر بھی بڑے چاک و چوبند اور سمارٹ دکھائی دیتے ہیں۔
حالیہ تحقیق میں یہ دیکھا گیا ہے کہ جب ہم اس قسم کی تصویریں دیکھتے ہیں ہمیں حسد ہوتا ہے، ہم خود کو اکیلا، زیادہ غیر محفوظ اور کسی کمی کا شکار محسوس کرتے ہیں۔
فرائڈ کے الفاظ میں یہ چیز ہمارے اعصاب پر اثر کرتی ہے اور ہم زیادہ نیوروٹِک ہو جاتے ہیں۔
فرائڈ کے بقول ’نفسیاتی تجزیے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس قسم کے اعصابی خلل کو عام انسانی خوشی سے تبدیل کیا جائے۔‘
اگلی مرتبہ جب آپ سیلفی لینے کا سوچیں تو یاد رکھیں کہ آپ نے نرگسیت کا شکار نہیں ہونا بلکہ اپنے دوستوں کا سوچنا ہے۔
ہو سکتا ہے کہ آپ کو اپنی اِس سیلفی پر اتنے ’لائیکس‘ نہ ملیں جتنے آپ چاہتے ہیں، لیکن فرائڈ نے آپ کو اس کی اجازت دے دی ہے اور میرا خیال ہے یہ آپ کے لیے بڑی بات ہے!

یہ بھی پڑھیں

پیشاب کی نالی میں سوزش کافی تکلیف دہ مرض ہوتا ہے

پیشاب کی نالی میں سوزش کافی تکلیف دہ مرض ہوتا ہے

انفیکشن یا سوزش کے نتیجے میں گردوں کے متاثر ہونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے