اعشاریہ, چھ ارب ڈالر, کے 24 سی ہاک ہیلی کاپٹر, انڈیا کو, فروخت, کرنے کی, منظوری

اعشاریہ چھ ارب ڈالر کے 24 سی ہاک ہیلی کاپٹر انڈیا کو فروخت کرنے کی منظوری

یہ آبدوزوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، کشتیوں پر حملہ کرنے اور سرچ آپریشن کے علاوہ ریسکیو کے عمل میں مددگار ہوتا ہے

اس ہیلی کاپٹر کو دنیا کا بہترین ہیلی کاپٹر کہا جاتا ہے جو کہ خاص طور پر فضا میں اڑنے کےساتھ بحری جہاز پر لینڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی بحریہ اسے سمندر میں موجود آبدوزوں کا پتہ لگانے کے لیے ’شکاری ‘ کے طور پر استعمال کرتی ہے۔
اس کے کاک پٹ میں دو کنٹرول سسٹم ہوتے ہیں یعنی ضرورت پڑنے پر اسے معاون پائلٹ مکمل طور پر کنٹرول کر سکتا ہے۔
کاک پٹ میں موجود تمام آلات کو ٹیکنالوجی کی وجہ سے اندھیرے اور سورج کی تیز روشنی میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
اس کے اندر جدید جی پی ایس سسسٹم نصب ہے اور سخت حالات میں کے باوجود اس میں میزائل لے جانے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔
پرواز کے دوران ہیلی کاپٹر کی رفتار فی گھنٹہ 267 کلومیٹر تک ہوتی ہے۔
سات ہزار کلو گرام وزنی یہ ہیلی کاپٹر دس ٹن وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکہ کے ساتھ جو ہیلی کاپٹرز جنھیں ایم ایچ 60 رومیو سی ہاک کہتے ہیں، کا معاہدہ ہوا ہے یہ بھارت کے لیے کافی اہم ہے۔
پہلی بات یہ ہے کہ کسی بھی جدید نیوی کے لیے ہیلی کاپٹر بہت خاص پلیٹ فارم ہوتا ہے۔ اینٹی سب میرین آپریشن، سرچ اور ریسکیو، اینٹی سرفیس ان کے طرح طرح کے رول ہوتے ہیں۔
انڈین نیوی ابھی تک برطانیہ سے خریدے ہوئے سی کنگ ہیلی کاپٹر استعمال کر رہی تھی مگر ان کی اپنی شیلف لائف ختم ہو رہی تھی۔ تو میں کہوں گا کہ ہیلی کاپٹر کی ایک بہت بڑی کمی تھی۔ اس ضمن میں میرے خیال میں 24 ہیلی کاپٹروں کا معاہدہ انڈین نیوی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
اس حوالے سے اگر آپ بھارت اور پاکستان کے درمیان موازنہ کریں تو انڈین نیوی ہیلی کاپٹرز، سب میرین اور باقی اعتبار سے دیکھیں تو پاکستانی نیوی کے مقابلے میں بڑی ہے۔
میرے انداز ے کے مطابق پاکستان کے پاس ساڑھے تین سو کے قریب ہیلی کاپٹرز ہیں۔ یہ ایک بین الاقوامی اندازہ ہے۔
انڈیا کے لیے امریکہ نیا سپلائر ہے۔ پہلے اس کا سپلائر روس تھا۔ لیکن میرے خیال سے پاکستان کا سپلائی تعاون امریکہ اور چین دونوں کے ساتھ ہے۔
اس لحاظ سے جو کمی فوجی سازوں سامان حاصل کرنے ہو وہ پورا کرنے کے لیے ان کے دونوں ممالک سے گہرے اور پرانے روابط ہیں۔
انڈیا اور امریکہ کے درمیان پچھلے دس سال کے درمیان اہم رہے ہیں۔
پہلے 30 سے 40 سال تک رشتے بہت خراب رہے تھے۔ اس زمانے میں کہا جاتا تھا کہ کیوبا کے بعد انڈیا نے سب سے زیادہ ووٹ اقوام متحدہ میں امریکہ کے خلاف دیے۔
2008 میں سویلین نیوکلئیر معاہدہ ہوا تو پھر حالات دھیرے دھیرے ٹھیک ہونا شروع ہوئے۔
انڈیا نے امریکہ سے ائیر فورس کے لیے ٹرانسپورٹ ہیوی ائیر کرافٹ خریدے ہیں۔ ابھی دونوں ملکوں کے درمیان ہیلی کاپٹرز کے سودے کے ساتھ ایک آرٹلری گن خریدنے کا معاہدہ بھی ہو رہا ہے۔
کچھ سال پہلے ہم نے امریکہ سے ایک لینڈنگ شپ بھی لی تھی۔ تو دھیرے دھیرے تینوں سطحوں پر نیوی، ائیرفورس اور فوج تینوں میں امریکہ سے سامان لیا جاتا ہے۔
اس وقت ہماری تینوں سروسز نے تقریباً 50 سے 60 فیصد ہ تک ملٹری ساز و سامان روس سے لیا ہوا ہے، چاہے وہ ٹینکس ہوں یا جہاز ہوں۔
ہم بار بار ہم مگ جہازوں کی بات کرتے ہیں، سوخوئی کی بات کرتے ہیں، یہ ہم نے روس سے لیا تھا مگر یہ اپنی شیلف لائف پوری کر رہے ہیں۔
ہاں، سیاسی سطح پر یہ چیلنج ہے کیونکہ اب انڈیا نے روس کے بعد امریکہ سے بھی سامان لینا شروع کیا ہے۔
امریکہ نے بھی کہا تھا کہ اگر انڈیا روس سے کچھ ساز و سامان لے گا تو وہ امریکی قانون کے تحت کچھ پینیلٹی بھی لگ سکتی ہے۔ تو یہ معاملہ بھی چل رہا ہے جس سے کبھی کبھی ماسکو بھی دکھی ہو جاتا ہے کہ ہم اس سے اتنا زیادہ سامان نہیں خرید رہے۔
یہ ہیلی کاپٹرز جو امریکہ دے رہا ہے یہ صرف انڈین بحریہ کے استعمال کے لیے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا اس سے پاکستان میں دہشت گردی اور اس سے جو بھی جڑی ہوئی صلاحتیں ہیں اس پر کوئی اثر پڑے گا۔
چین کے پاس ایک بڑا ائیر کرافٹ اور ہیلی کاپٹر مینی فیکچرنگ سسٹم ہے۔ لیکن میرے خیال سے اگر امریکہ سے موازنہ کریں تو چین کا سازو سامان ٹیکنالوجی کے معاملے میں ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔
امریکہ نمبر ون پر ہے، روس دوسرے نمبر پر ہے اور چین تیسرے پر ہے۔ پاکستان کے لیے یہ سہولت یہ ہے کہ چین تو ہر موسم میں اس کا ساتھی ہے۔
انڈیا اور پاکستان کے بیچ میں اگر ہم تاریخی اعتبار سے دیکھیں تو شاید آپ کہہ سکتے ہیں زیادہ تر فوج اور فضائیہ کے درمیان ہی ٹکراؤ ہوا ہے۔
ہاں یہ صحیح ہے کہ جب بنگلہ دیش کی جنگ ہوئی تھی سنہ 1971 میں اس وقت انڈین نیوی نے کافی آپریشن کیے تھے، چاہے وہ کراچی کا حملہ ہو یا ڈھاکہ کے اوپر۔
پاکستان نیوی نے بھی آبدوز کو استعمال کرتے ہوئے انڈیا کے اینٹی سب میرین کھوکھری کو ڈبویا تھا۔
مجموعی اعتبار سے میں کہوں گا کہ انڈیا پاکستان کے بیچ فوجی سطح پر جنگ سے نیچے کی صورتحال رہی ۔ وار فیئر کا پروفائل بدل گیا ہے۔ ممبئی میں جو حملہ ہوا تھا اس وقت بحیرہ ہند سے وہ آئے تھے۔
گر پاکستان کے لیے میری ٹائم کی ڈومین دیکھیں تو شاید پاکستان کو چین کے نظریے سے بھی اپنا نقشہ بنانا پڑ رہا ہو گا۔ یہ میرا اندازہ ہے۔
آنے والے عرصے میں مجھے لگتا ہے کہ بحیرہ ہند انڈیا، چین اور پاکستان اور امریکہ کے لیے ایک اہم علاقہ ہوگا، اور چین کی وجہ سے چاہے بیلٹ اینڈ روڈ ہو یا گوادر، یہ سب اس میں اہم کردار ہوں گے۔
ھارت کے لیے یہ ‘ایک بڑی کمی’ کو پورا کرنے کا معاہدہ ہے، کیونکہ اب جو بھی جدید جہاز ہیں، اگر ہو ہیلی کاپٹر کے بغیر ہوں تو ان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

برطانوی شاہی خاندان کی تین خواتین امید سے

برطانوی شاہی خاندان کی تین خواتین امید سے

برطانوی شاہی خاندان کی دونوں شہزادوں کہ اہلیہ امید سے ہیں اور جلد شاہی خاندان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے