خاشقجی کے بچوں کو خون بہا میں گھر، لاکھوں ڈالر دئیے گئے، امریکی اخبار کا دعویٰ

خاشقجی کے بچوں کو خون بہا میں گھر، لاکھوں ڈالر دئیے گئے، امریکی اخبار کا دعویٰ

واشنگٹن : امریکی اخبار نے دعوی کیا ہے کہ سعودی عرب نے مقتول صحافی جمال خاشقجی کے چاربچوں کو خون بہامیں لاکھوں ڈالر مالیت کے گھر اور ماہانہ بنیادوں پر لاکھوں ڈالر رقم دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی حکام اور دیگر افراد نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جمال خاشقجی کے دو بیٹوں اور دوبیٹیوں کو آئندہ چند ماہ میں سعودی صحافی کے قاتلوں کا ٹرائل مکمل ہونے پر خون بہا سے متعلق مذاکرات کے تحت مزید لاکھوں ڈالر دیئے جاسکتے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت، جمال خاشقجی کے اہلخانہ سے طویل المدتی مفاہمت کی کوشش کر رہی ہے تاکہ انہیں سعودی صحافی کے قتل پر تنقید سے باز رہنے پر آمادہ کیا جاسکے۔

سابق عہدیدار کے مطابق گزشتہ برس کے آخر میں شاہ سلمان کی جانب سے ان گھروں اور 10 ہزار ڈالر یا اس سے زائد ماہانہ آمدن کی منظوری دی گئی تھی اور اس حوالے سے کہا گیا تھا کہ ایک بڑی ناانصافی ہوچکی ہے اور یہ غلط کو صحیح کرنے کی کوشش ہے۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ شاہی خاندان محمد بن سلمان اور کی پالیسیوں کے سخت ناقد صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے دولت کا سہارا لے رہا ہے۔

دوسری جانب سعودی عہدیدار نے جمال خاشقجی کے اہلخانہ کو دی گئی رقم کو ملک میں طویل عرصے سے انتہا پسند جرائم یا قدرتی آفات کے متاثرین کو فراہم کی جانے والے مالی تعاون کی روایت قرار دیا۔

انہوں نے اس بات کو مسترد کردیا کہ ان ادائیگیوں کے بدلے جمال خاشقجی کے خاندان کو خاموشی اختیار کرنی ہوگی۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ تعاون ہماری روایت اور ثقافت کا حصہ ہے یہ کسی اور چیز سے نہیں جڑا ہوا۔

ابتدائی طور پر جمال خاشقجی کے تمام بچوں کو جدہ میں گھر دیئے گئے ہیں اور ہر گھر کی مالیت 40 لاکھ ڈالر ہے، یہ جائیدادیں ایک ہی کمپانڈ میں موجود ہیں جن میں ان کے بڑے بیٹے صلاح خاشقجی کو مرکزی حصہ دیا گیا ہے۔

جمال خاشقجی کے اہل خانہ کے قریبی ذرائع کے مطابق صلاح خاشقجی جدہ میں بینکر کے طور پر کام کررہے ہیں اور مستقبل میں سعودی عرب میں ہی رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سعودی صحافی کے باقی بچے امریکا میں مقیم ہیں اور ان کی جانب سے یہ نئی جائیدادیں بیچنے کی توقع ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ جمال خاشقجی کے بڑے بیٹے صلاح سمیت دیگر بچوں سے اس معاملے پر رابطے کی کوشش کی گئی تھی تاہم انہوں نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تھا یہاں تک کہ ان کے وکیل ولیم ٹیلر نے بھی اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔

امریکی میڈیا کے مطابق سعودی ولی عہد کے بھائی اور امریکا میں سعودی عرب کے سابق سفیر خالد بن سلمان نے صحافی کے اہلخانہ سے مذاکرات کیے تھے۔

یاد رہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ سال ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں داخل ہوئے جس کے بعد وہ گمشدہ ہوگئے تھے، بعد ازاں اُن کے قتل کی خبر آئی۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے بھی سعودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے صحافی کے قتل کی ترکی میں شفاف تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

چین کو شوگر کی برآمد کے لئے پیپر ورک کیا جارہا ہے

یہ بھی پڑھیں

یو پی کے ہندو انتہا پسند وزیراعلیٰ کا ’آگرہ‘ کا نام بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ

یو پی کے ہندو انتہا پسند وزیراعلیٰ کا ’آگرہ‘ کا نام بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ

بھارتی کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے انتہا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے