مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلانات کے بعد فلسطینی اتھارٹی نے برازیل اور آسٹریا میں

فلسطینی اتھارٹی نے برازیل اور آسٹریا سے سفیر واپس بلا لیے

یروشلم : مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلانات کے بعد فلسطینی اتھارٹی نے برازیل اور آسٹریا میں تعینات اپنے سفیر واپس بلا لیے۔

تفصیلات کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے نائب وزیرخارجہ عمار حجازی نے بتایا کہ برازیل اور آسٹریا کی طرف سے بیت المقدس میں سفارتی دفاتر کھولنے کے اعلانات کے بعد ان ملکوں میں تعینات فلسطینی سفیروں کو واپس بلا لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی سفیروں کی واپسی ان دونوں ملکوں کے ساتھ تعلقات کا ازسر نو جائزہ لینے کے لیے عمل میں لائی گئی ہے۔

عمار حجازی کا کہنا تھا کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا صدر مقام تسلیم کرنے والے ممالک کے ساتھ تعلقات کا ازسر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کے ساتھ ہر سطح پر تعلقات کے بائیکاٹ کا فیصلہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

عمار حجازی نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کو برازیل اور آسٹریا کے فیصلوں پر سخت تشویش ہے اس طرح کے اقدامات اور اعلانات مشرقی یروشلم سے متعلق بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں کی توہین کے مترادف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برازیل اور آسٹریا کی طرف سے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا ذمہ دار امریکا ہے اگر امریکی حکومت ایسا فیصلہ نہ کرتی تو یہ دونوں ملک بھی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہ کرتے۔

 برازیل کے صدر ڑائیر بولسونارو نے یکم اپریل کو دورہ اسرائیل کے دوران مقبوضہ بیت المقدس میں سفارتی دفتر کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

برازیلین صدر نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ یروشلم میں ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور دفاعی تعاون مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

برازیلین صدر بولسونارو کی جانب سے یروشلم میں ایک سفارتی دفتر کھولنے کا اعلان بھی کر دیا ہے تاہم اس حوالے سے واضح تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔

گذشتہ ماہ آسٹریا بھی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد وہاں پر اپنا ایک نمائندہ دفتر قائم کر چکا ہے۔

مسلمان امیدواروں کو انتخابی ٹکٹ نہیں دیں گے، رہنما بی جے پی

یہ بھی پڑھیں

برطانوی شاہی خاندان کی تین خواتین امید سے

برطانوی شاہی خاندان کی تین خواتین امید سے

برطانوی شاہی خاندان کی دونوں شہزادوں کہ اہلیہ امید سے ہیں اور جلد شاہی خاندان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے