اگربھارت نے پاکستان کا پانی روکا توجارحیت تصور کیا جائے گا، مشترکہ اعلامیہ

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں سیاسی قائدین کے اجلاس میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ اور مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اگربھارت نے پاکستان کا پانی روکا توجارحیت تصور کیا جائے گا۔

لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر بات چیت کے لئے تمام جماعتوں کے سربراہ وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سر جوڑ کر بیٹھے۔ وزیراعظم نواز شریف کا اجلاس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر پوری قوم کا یکجا ہونا خوش آئند بات ہے، برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد مسئلہ کشمیر بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، وقت آ گیا ہے کہ اقوام عالم مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔

وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی جانب سے بلاول بھٹوزرداری، خورشید شاہ، اعتزاز احسن، شیری رحمان، پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے شاہ محمود قریشی اور شیریں مزاری جب کہ  اجلاس میں محمود خان اچکزئی،غلام احمد بلور، میرحاصل بزنجو، سراج الحق، پرویز الہٰی، چوہدری شجاعت حسین، مولانا فضل الرحمان، ڈاکٹر فاروق ستار اور پارلیمنٹ میں فاٹا کے پارلیمانی رہنما بھی شریک ہوئے، اجلاس میں شریک سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی مقبوضہ کشمیر اور ایل او سی پر بھارتی جارحیت کے حوالے سے اپنی آرا پیش کی۔

سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کا جلاس کو مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر بھرپور اندار میں اجاگر کیا، وزیراعظم نواز شریف نے 11 سربراہان مملکت کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کا معاملہ اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر پزیرائی ملی جب کہ او آئی سی گروپ نے بھی پاکستانی موقف کی حمایت کی۔

اعزاز احمد چوہدری نے اجلاس کو بتایا کہ برہان مظفر وانی نوجوان کشمیری نسل کے لئے ایک ہیرو تھا جس نے تحریک آزادی بھرپور انداز میں منظم کی، بھارتی فوج کے ہاتھوں برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا جس پر بھارتی حکمرانوں کو تشویش ہوئی تو انہوں نے نہتے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ شروع کردیا، بھارت نے مسلسل ڈھائی ماہ سے کشمیر میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے، کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ انتہا کو پہنچ چکا ہے۔

کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکا تو جارحیت تصور کیا جائے گا۔  اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نافذ کالے قوانین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں جب کہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے نہ صرف دہشت گردی کے الزامات بلکہ بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرایئک کا بے بنیاد  دعویٰ بھی مسترد کرتے ہیں،اعلامیے میں بلوچستان میں بھارتی مداخلت کی بھی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ بھارت کا مذاکرات اور سارک کانفرنس میں نہ آنا افسوس ناک ہے تاہم پاکستانی قیادت کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے کا بھارتی دعویٰ بھی مسترد کرتی ہے۔

مشترکہ اعلامیہ میں مزید کہاگیا ہے کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں، مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے عوام ،سیاسی جماعتیں اور افواج متحد ہیں جب کہ کشمیریوں کا قتل عام نہ صرف انسانی حقوق بلکہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کشمیر کا موقف بہتر انداز میں بہتر پیش اور پوری پاکستانی قوم اس مسئلے پر وفاقی حکومت کے ساتھ ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے موقف کی تائید اور مسئلہ کشمیر پر حکومت کا ساتھ دینے کا یقین دلاتے ہیں، بہت اچھی بات ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر پر متفق ہیں کہ کشمیر کو ان کی خواہش کے مطابق حق خود ارادیت کا حق ملنا چاہیئے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر ہم نے اے پی سی بلانے کے لئے قرارداد پیش کی، خوشی ہے کہ وزیراعظم نے ہماری درخواست پر اے پی سی بلائی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیں آزمانا چاہتا ہے تو جواب دینے کے لئے بھی تیار ہیں، بھارت ہمیں آزمائے گا تو منہ کی کھائے گا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیریوں پر ظلم کر کے اخلاقی جواز کھو چکا ہے، بھارت کو انتہا پسند سوچ نے بہت نقصان پہنچایا جب کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستانی قوم کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے خلاف متحد ہو کر جواب دینے کی ضرورت ہے، کشمیر کے موقف پر تمام سیاسی جماعتوں کا متحد ہونا قابل فخر ہے، اگر ہم سب سے مل کر بھارت کو جواب نہیں دیا تو پھر ہمارا موقف کمزور ہو گا۔

حکومت کی جانب سے کانفرنس میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو دعوت نہیں دی گئی جس پر عمران خان نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور اپنی ٹویٹ میں کہا کہ شیخ رشید کے ساتھ جو امتیاز برتا گیا وہ ایک تنگ نظر اور عدم برداشت پر مبنی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے جس سے قومی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکتا۔

یہ بھی پڑھیں

افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت

افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت

پشاور: قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے نویں دور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے