نیوزی لینڈ، خودکار ہتھیاروں پر پابندی، بل منظور

نیوزی لینڈ، خودکار ہتھیاروں پر پابندی، بل منظور

ویلنگٹن: نیوزی لینڈ میں سیمی آٹومیٹک طرز کی رائفلز پر پابندی عائد کرنے سے متعلق ایک قانونی بل منظور کرلیا گیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نیوزی لینڈ کی پارلیمان میں ووٹنگ کرائی گئی رائے دہی میں 119 ارکان نے اس بل کے حق میں ووٹ ڈالا جبکہ صرف ایک قانون ساز نے اس کی مخالفت کی۔

بل کی مخالفت کرنے والے قانون ساز نے کہا کہ خود کار ہتھیاروں سے متعلق بل جلد بازی میں پیش کیا جارہا ہے۔

کرائسٹ چرچ میں مساجد پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے تناظر میں نیوزی لینڈ میں ہتھیاروں کے حوالے سے قانون سازی سخت بنائی جارہی ہے، اس ضمن میں مزید قوانین اسی سال کے اواخر تک متعارف کرائے جاسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ نیم خود کار ہتھیاروں پر پابندی کے لیے بل ووٹنگ کا یہ پہلا مرحلہ تھا، دیگر دو مراحل میں کامیابی کے بعد ہی بل کو قانونی درجہ حاصل ہوگا۔

بل پر قانون سازی کے بعد فوجی طرز کے نیم خود کار ہتھیاروں جس میں میگزین نصب ہوتا ہے ان پر پابندی عائد ہوجائے گی۔

یاد رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 15 مارچ کو دو مساجد پر دہشت گرد نے اس وقت داخل ہوکر فائرنگ کی تھی جب بڑی تعداد میں نمازی، نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھے۔

افسوسناک واقعے میں 50 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے، نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسیںڈا آرڈرن نے حملوں کو دہشت گردی قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے پریس کانفرنس کے دوران آٹومیٹک اورسیمی آٹومیٹک اسلحے پرپابندی کا اعلان کیا تھا، جیسنڈا آرڈرن کا کہنا تھا کہ شہری ممنوع اسلحے سے متعلق پولیس سے رابطہ کریں اور خود کار ہتھیار واپس کریں۔

کسی ملزم کو کیس میں پیش رفت کے بغیر مسلسل قید میں نہیں رکھا جا سکتا

یہ بھی پڑھیں

متحدہ عرب امارات میں ڈرون کے ذریعے تیل وگیس کے نئے ذخائر کی تلاش

متحدہ عرب امارات میں ڈرون کے ذریعے تیل وگیس کے نئے ذخائر کی تلاش

ابوظہبی:  ابوظہبی نیشنل پٹرولیم کمپنی فرانسیسی کمپنی کے تعاون سے ڈرون کے ذریعے تیل اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے