بڑی, ڈکیتتی, کوئٹہ میں, پہلی بار

بڑی ڈکیتتی کوئٹہ میں پہلی بار

کوئٹہ: تجارتی تنظیموں کے مطابق ڈکیتوں کے گروہ نے پشتون آباد اور اس سے ملحقہ علاقوں میں 83دکانوں کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے مالیت کی نقدی اور سامان کو چرا لیا اور پھر رات گئے کسی مزاحمت کے بغیر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے

جب صبح دکاندار اپنے کام پر پہنچے تو انہیں ڈکیتی کی واردات کا علم ہوا اور انہوں پولیس کو وادات کے بارے میں بتایا۔
بلوچستان ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے بتایا کہ ڈکیتوں کے گروہ نے تقریباً 83دکانوں میں لوٹ مار کی اور اس طرح کی بڑی ڈکیتتی کوئٹہ میں پہلی بار ہوئی ہے۔
البتہ پولیس نے ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے سربراہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واردات میں صرف 22دکانوں میں چوری کی گئی جن میں سے اکثر موبائل کی دکانیں تھیں اور دکاندار تعداد کو بڑھا کر بتا رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ جام کمال خان آلیانی نے کہا کہ غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، واقعے کے ذمے دار پولیس آفیشلز کے خلاف ہر حال میں کارروائی کی جائے گی جنہوں نے عوام کے جان و مال کے تحفظ میں غفلت سے کام لیا۔
دکانداروں نے علاقے میں احتجاج کیا اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ڈکیتوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
مقامی تاجر برادری نے کہا ہے کہ اگر پولیس نے ملزمان کو گرفتار نہ کیا تو وہ احتجاج کرتے ہوئے پورے بلوچستان میں ہڑتال کریں گے۔
وزیر اعلیٰ جام کمال خان آلیانی نے ان دو پولیس اسٹیشنز کی حدود میں ہونے والی لوٹ مار کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل بلوچستان پولیس کو ہدایت کی کہ علاقے کے پولیس افسران کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے ملزمان کو 48گھنٹے میں گرفتار کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

بلوچستان یونیورسٹی وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال نے عارضی طور پر عہدے سے دستبردار

بلوچستان یونیورسٹی وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال نے عارضی طور پر عہدے سے دستبردار

کوئٹہ: شفاف انکوائری کو یقینی بنانے اور یونیورسٹی آف بلوچستان کے وائس چانسلر کی درخواست …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے