عمران خان, این آر او, دینے کی, اہلیت ہی, نہیں رکھتے

عمران خان این آر او دینے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے

لاہور: فوجی عدالتوں میں توسیع ضرورت کے تحت کی گئی تھی، اگر موجودہ حکومت اب بھی یہ محسوس کرتی ہے کہ ان عدالتوں کی مدت میں توسیع ضروری ہے تو پارلیمنٹ کو آکر بتایا جائے کہ کیا مشکلات ہے

نہ ہم ڈیل کے قائل ہیں نہ کسی اور بات کے، ملک کا وزیر اعظم کہتا ہے کہ ہم سے این آر او مانگا جارہا، کیا عمران خان یہ اہلیت رکھتے ہیں کہ وہ این آر او دے سکیں؟ این آر او صرف آمر دیتے ہیں، جب ملک میں آئین و قانون نہیں ہوتا تب این آر او کی باتیں ہوتی ہیں۔
عمران خان اور ان کے چمچے یہ بات ذہن سے نکال دیں، این آر او نہ کسی نے مانگا ہے نہ یہ کسی کو دے سکتے ہیں، ان کو خود این آر او کی ضرورت پڑے گی۔
الیکشن کمیشن کے اراکین کی تعیناتی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جاتا ہے اور تجویز کردہ نام پارلیمانی کمیشن کو بھیجا جاتا ہے، تاہم بدقسمتی سے قومی اسمبلی کے اسپیکر پر وزیر اعظم کا دباؤ ہے وہ اجلاس نہیں چلاسکتے، حکومت نے قومی اسمبلی کو مفلوج کردیا ہے۔
بیظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام میں تبدیلی سے متعلق شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلی قانون کے ذریعے ہوسکتی ہے، حکومت ایوان میں قانون لائے اور بتائے کہ کیوں تبدیلی چاہتی ہے۔
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سوال پر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی مدت 3 سال ہوتی ہے اور میں نے آئین میں بھی یہی پڑھا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شہباز شریف کی زیر قیادت اجلاس ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کو فوری طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانا چاہیے، نیشنل ایکشن پلان پر اپوزیشن کا مشترکہ موقف ہے، حکومت اس سلسلے میں پارلیمان کو بریفنگ دے۔

یہ بھی پڑھیں

اکتوبر میں ’آزادی مارچ‘ کرتے ہوئے اسلام آباد کا گھیراؤ کرنے کا فیصلہ کرلیا

اکتوبر میں ’آزادی مارچ‘ کرتے ہوئے اسلام آباد کا گھیراؤ کرنے کا فیصلہ کرلیا

لاہور: مولانا فضل الرحمٰن نے وزیراعظم عمران خان کو خبردار کیا تھا کہ 2018 کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے