اردوان, اور ان کی جماعت کے, لیے ملک کے دو اہم, شہروں میں, شکست ایک, بڑا دھچکا

اردوان اور ان کی جماعت کے لیے ملک کے دو اہم شہروں میں شکست ایک بڑا دھچکا

ترکی: ترک صدر نے میئر اور ڈسٹرکٹ کونسلز کے انتخابات کو ترکی کی بقا کی جنگ قرار دیا تھا لیکن ملک کی گرتی کرنسی اور بیروزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح کے ساتھ ساتھ خراب ہوتی معیشت کے سبب یہ انتخابات ان کی جماعت کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں

انقرہ کے میئر کی ہونے والی ووٹنگ میں 99فیصد ووٹ گنے جا چکے ہیں اور اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار منصور یاوس 50.89فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کر رہے تھے اور اے کے پی نے 47.06ووٹ حاصل کیے۔
ترکی کے سب سے بڑے شہر اور معاشی حب استنبول میں صورتحال انتہائی دلچسپ ہے اور دونوں ہی امیدوارکامیابی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
ابتدائی نتائج کے مطابق حکمران جماعت کے امیدوار نے 48.70 ووٹ حاصل کیے ہیں لیکن 48.65ووٹ حاصل کرنے والے اپوزیشن کے امیدوار بھی فتح کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
آخری نتائج کے مطابق اے کے پی کو صرف 4ہزار ووٹوں کی برتری حاصل تھی اور حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ وہ ہزاروں بیلٹس کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ وہ دونوں بڑے شہروں میں انہیں غلط مانتے ہیں۔
دو بڑے شہروں میں ممکنہ شکست کے باوجود انقرہ میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے اردوان نے انتخابات کو اپنی جماعت کی فتح قرار دیا لیکن انہوں نے اس میں انقرہ کی شکست کا ذکر نہیں کیا
اپوزیشن جماعتیں کا ماننا ہے کہ ترک صدر پر جمہوریت تیزی سے زوال پذیر ہو رہی ہے اور ان کا کہنا ہے خصوصاً 2016 میں بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد سے جمہوریت کو شدید خطرات کا سامنا ہے جہاں اس وقت سے اب تک بغاوت میں مبینہ طور ہر ملوث ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

برطانوی شاہی خاندان کی تین خواتین امید سے

برطانوی شاہی خاندان کی تین خواتین امید سے

برطانوی شاہی خاندان کی دونوں شہزادوں کہ اہلیہ امید سے ہیں اور جلد شاہی خاندان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے