وہ علاقہ جہاں گاندھی کی پوجا کی جاتی ہے

شری ککولم سے 70کلومیٹر کے فاصلے پر پلاسا منڈل نامی ایک گاﺅں ہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں کے لوگ کسی دیومالائی دیوتا کی بجائے مہاتما گاندھی کی پوجا کرتے ہیں۔ انہوں نے گاﺅں میں گاندھی جی کی ایک مورتی سجا رکھی ہے اور دہائیوں سے اس کی پوجا کرتے آ رہے ہیں۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق پلاسا منڈل میں ہر سال فصل خریف کی کٹائی سے قبل ”گاندھما“ نامی تہوار منایا جاتا ہے۔ اس دوران گاندھی جی کی مورتی پر چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں اور انہیں خوش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ گاﺅں کے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ فصل کی کٹائی سے قبل گاندھی جی کو خوش کرنے سے پیداوار زیادہ ہوتی ہے۔ گاﺅں کے بڑے بزرگوں کا کہنا ہے کہ گاندھی جی کی پوجا کی شروعات ان کے بڑوں نے 1947ءمیں آزادی کے فوری بعد کی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق گاندھما تہوار کا پس منظر بیان کرتے ہوئے گاﺅں کے رہائشی65سالہ فلگونا راﺅ کا کہنا تھا کہ ”انگریز دور میں ہمارے گاﺅں کی 250ایکڑ زمین پرسورام چوہدری اور وینکتا راما چوہدری کو حکمرانوں نے انعام میں دے دی تھی جو کہ دراصل ہماری تھی۔ وہ ہمارے بڑوں سے اپنے ہی کھیتوں میں مشقت کرواتے اور فصل خود لے جاتے۔ ہمارے بزرگوں نے گاندھی جی کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے غیرمتشدد تحریک چلا کر یہ زمین واگزار کروائی تھی۔ جس روز یہ زمین گاﺅں کے لوگوں کو واپس ملی اس دن کی یاد میں اب یہ تہوار منایا جاتا ہے اور گاندھی جی کی مناسبت سے اس کا نام گاندھما رکھا گیا ہے۔ صرف ہمارا گاﺅں ہی نہیں بلکہ آس پڑوس کے چھوٹے چھوٹے دیہات بھی گاندھی جی کی پوجا کرتے ہیں۔“

یہ بھی پڑھیں

اقوام متحدہ کو کشمیریوں کو بچانے کیلئے آگے آنا ہوگا، شاہ محمود کا یواین سربراہ کو فون

اقوام متحدہ کو کشمیریوں کو بچانے کیلئے آگے آنا ہوگا، شاہ محمود کا یواین سربراہ کو فون

اسلام آباد: بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے