انڈیا کو براہمداغ سے پیار نہیں

سینیچر کی شب جاری ہونے والے ایک سرکاری ہینڈ آؤٹ کے مطابق یہ بات انھوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں ایک روزہ سیکورٹی اینڈ ڈویلپمنٹ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کی۔

خیال رہے کہ حال ہی میں بلوچستان کے علیحدگی پسند رہنما براہمداغ بگٹی نے بھارتی وزیرِاعظم کی جانب سے ایک بیان میں بلوچستان کے مسئلے کو اٹھانے کا خیرمقدم کیا تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل عامرریاض کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قوتوں کے توازن کی تبدیلی کے عمل کے نتیجے میں ہمارا علاقہ گریٹ گیم میں پھنس گیا ہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ اپنے لوگوں کے اتحاد، قومی یکجہتی، اور اپنی قوت کی بنا پر ہم موجودہ بحران سے کامیابی کے ساتھ نکل جائیں گے۔

یاد رہے کہ بین الاقوامی سیاست کے تاریخدان دی گریٹ گیم کے الفاظ برطانیہ اور روس کے درمیان انیسویں صدی میں پیش آنے والی کشیدگی کے لیے استعمال کرتے ہیں جس میں موجودہ افغانستان کا خطہ ایک اہم مرکز تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل عامرریاض نے کہا کہ ’پاکستان افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا خواہاں ہے، جس کی پاکستان نے ہمیشہ کوشش کی ہے تاہم سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان کوششوں کو ناکام بنایا گیا۔‘

لیفٹیننٹ جنرل عامرریاض نے کہا کہ پاکستان پر دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات کو شورش قرار دینا درست نہیں کیونکہ بلوچستان کے عوام کے نمائندے خود حکومتی امور چلا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا مضبوط حصہ اور گریٹ گیم کا اہم کردار اور مرکز ہے۔

انھوں نے کہا کہ سی پیک سے پاکستان کے ساتھ ساتھ افغانستان کو بھی فائدہ ہوگا لیکن اس کے لیے افغانستان میں امن کا قیام ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم حالتِ جنگ میں ہیں اور ہمارے آپس کے اختلافات ظاہر ہونے سے دشمن کے حوصلے بلند ہونگے لیکن اگر ہم متحد ہو کر حالات کا مقابلہ کریں تو ہر سازش ناکام ہوگی۔‘

انھوں نے کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں سب سے زیادہ دباؤ بلوچستان پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں

وفاقی حکومت کی مالی کفایت شعاری پالیسی

وفاقی حکومت کی مالی کفایت شعاری پالیسی

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی کفایت شعاری پالیسی کے تحت رواں مالی سال2019-20 کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے