روس کی شام میں کارروائیاں صورتِ حال کو مزید خراب کر رہی ہیں

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روس کی شام میں تازہ فضائی کارروائیوں سے صورتِ حال ‘مزید خراب’ ہو رہی ہے۔

مارک ٹونر کے مطابق ان کارروائی کی وجہ سے امریکہ روس کے ساتھ تعاون ختم کر سکتا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا روس کے الزامات بے معنی ہیں اور امریکہ نے گذشتہ ماہ کے دوران النصرہ فرنٹ کو نشانہ نہیں بنایا کیونکہ وہ دیگر گروہوں اور شامی شہریوں کے ساتھ ‘گھل مل’ گیا ہے۔

مارک ٹونر نے کہا شام کے شہر حلب میں امدادی قافلے پر حالیہ حملے اور فضائی کارروائی کی وجہ سے اعتدال پسند عناصر شدت پسندوں کے قریب ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس صورتِ حال کی وجہ سے شام کی صورتِ حال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

ادھر روس نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شام کے صدر بشار الاسد کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کے لیے کی جانے والی مسلح کوششوں میں ایک جہادی گروپ کو بچانا چاہتا ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے کہا کہ امریکہ نے جبھۃ فتح الشام گروپ کو شام میں سرگرم باقی انتہا پسند اور اعتدال پسند گروپوں سے علیحدہ کرنے کے وعدے کو توڑ دیا ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے حلب پر روسی اور شامی افواج کی بمباری کا بھی دفاع کیا۔

سرگے لاوروف شام میں روسی کارروائیوں کا ایک سال مکمل ہونے پر بی بی سی نیوز کے سٹیفن سیکر سے بات کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ النصرہ کو باقی مخالفین سے علیحدہ کرنے کی ذمہ داری ترجیحی بنیادوں پر ادا کرے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ متعدد وعدوں اور بار بار کی یاد دہانیوں کے باوجود وہ ابھی تک یا تو کر نہیں پائے یا کرنا ہی نہیں چاہتے اور ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ ابتدا ہی سے وہ النصرہ کو بچانا چاہتے تھے تاکہ اسے متبادل منصوبے کی صورت میں استعمال کیا جائے یا دوسرے مرحلے میں جب حکومت کو تبدیل کرنے کا وقت آئے تو اس کو آگے لایا جائے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران حلب کے محصور شہر پر روس اور شامی افواج کی بمباری کی وجہ سے 400 سے زیادہ شہری ہلاک ہوگئے ہیں جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نسل کشی کو دو سال مکمل ہونے پر بنگلادیش میں مقیم روہنگیا کے مسلمانوں کا احتجاجی مارچ

نسل کشی کو دو سال مکمل ہونے پر بنگلادیش میں مقیم روہنگیا کے مسلمانوں کا احتجاجی مارچ

ڈھاکا: ریلی میں موجود افراد نے روہنگیا کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مہاجرین …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے