مذہبی دل آزاری کےجرم میں بلاگر کوقیدکی سزا

نوجوان بلاگر ایموس یی کو سزا سناتے ہوئے جج نے کہاآپ کی اس حرکت سے معاشرے میں بد امنی پھیلنے کا اندیشہ ہے۔

اس سے قبل 2015 میں اس نوجوان بلاگر کو عیسائی مذہب کی توہین کے جرم میں چار ہفتے قید کی سزا سنائی گئی تھی۔یہ دوسرا موقع ہے جب ایموس یی کو جیل کی سزا ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ سنگاپور مذہب اور نسل کی توہین کو سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے اور اس طرح کے جرائم کو برداشت نہیں کیا جاتا۔

نوجوان بلاگر ایموس یی کاعدالت کی جانب سے سزا سنائےجانے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا مجھے ملنے والی سزا ‘ منصفانہ’ ہے اور وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں۔

یاد رہے کہ اس مقدمے پر انسانی حقوق کی تنظیمیں گہری نظر رکھی ہوئی تھیں اور ان کا موقف تھا کہ اس مقدمے سے آزادی رائے کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں

مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاک بھارت مذاکرات ضروری ہیں

مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاک بھارت مذاکرات ضروری ہیں

نیویارک: سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے