ٹرمپ کا نیوزی لینڈ حملے کی مذمت سے گریز

ٹرمپ کا نیوزی لینڈ حملے کی مذمت سے گریز

امریکی صدر نے مغربی ملکوں میں نسل پرستانہ رجحانات کے پھیلاؤ سے انکار کیا ہے۔

انہوں نے نیوزی لینڈ کے دہشت گردانہ حملے میں نسل پرستانہ سوچ سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ شدید قوم پرستی اور سفیدفاموں کی برتری جیسے نظریات کو بڑھتی ہوئی مشکل تصور نہیں کرتے۔

نیوزی لینڈ کی مساجد میں ہونے والے حملے پر امریکی صدر نے ردِ عمل دیتے ہوئے ہمدردی یا تعزیت کا کوئی بھی لفط کہنے کے بجائے نیوزی لینڈ کو ضرورت پڑنے پر ہر قسم کی امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

ٹرمپ نے ایمرجنسی کے خاتمے کے بل کو ویٹو کرنے کی تقریب میں اس بات سے لاعلمی ظاہر کی تھی کہ نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے ارتکاب کرنے والے مرکزی ملزم نے اپنے مینیفسٹو میں ان کی بڑی تعریف کی ہے۔

یہ پہلی بار نہیں جب امریک صدر کو اپنے بیانات اور کردار کے سبب نسل پرست گروہوں کی حوصلہ افزائی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔صدر ٹرمپ نسل پرستانہ نظریات اور تارکین وطن مخالف جذبات کی کھل کر مخالفت کرنے سے ہمیشہ گریز کرتے آئے ہیں۔ٹرمپ نے سن دوہزار سترہ میں شارلٹ ول میں ہونے نسل پرستانہ قتل عام پر بھی خاموشی اختیار کی تھی جس کے سبب انہیں کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

امریکی ذرائع ابلاغ نے اس حادثے کا نیوزی لینڈ کی مساجد پر ہونے والے حملوں سے موازنہ کرتے ہوئے دنیا میں اسلامو فوبیا میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے

کرائسٹ چرچ حملے میں نمازیوں کو بچاتے ہوئے جان قربان کرنے والا پاکستانی

یہ بھی پڑھیں

امریکہ میں فائرنگ کے واقعات، 43 افراد ہلاک و زخمی

امریکہ میں فائرنگ کے واقعات، 43 افراد ہلاک و زخمی

امریکہ میں فائرنگ کے تازہ واقعات میں کم سے کم تینتالیس افراد ہلاک و زخمی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے