پاکستان مدد کرے تو خالصتان بناسکتے ہیں

 

بھارت میں موجود خالصتان تحریک کے رہنما امرجیت سنگھ نے کہا کہ اکھنڈ بھارت کے حامیوں نے پاکستان کو آج تک تسلیم نہیں کیا، پاکستان اور بھارت کے درمیان ریاس خالصتان قائم ہونی چاہیے جس کے قیام کے لیے پاکستان ہماری مدد کرے، پاکستان اور خالصتان کا مستقبل ایک ہے ،پاکستانی پالیسی میکرز جائزہ لیں کہ خالصتان تحریک کی کس طرح مدد کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ جلیاں والا باغ میں 400 سکھوں کو قتل اور 900 کو زخمی کیا گیا جب کہ 1984ء میں اس سانحے سے بھی بڑی کارروائی کی گئی، جمہوریت کے نام پر کئی جلیاں والا باغ جیسے مظاہرے ہوئے گویا نازیوں کا جو طریقہ کار تھا وہ آج بھی بھارت میں رائج ہے۔

امر جیت سنگھ کا کہنا تھا کہ سکھوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھاکہ بھارتی ریاست اتر پردیشن میں ایسا خطہ آپ دیا جائے گاجہاں آپ نمو پاسکیں لیکن وہ وعدہ آج تک وفا نہ ہوا، خالصتان پرامن تحریک تھی لیکن 84ء تا96 بارہ برس کے دوران ڈیڑھ لاکھ سے زائد سکھوں کو قتل کیا گیا، سکھوں کی ایک نسل ختم کردی گئی اور دوسری کو نشے کی راہ پر لگادیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ناگاہ پور اور منی لینڈ سمیت اس وقت 10 سے زائد ریاستوں میں آزادی کی تحاریک جاری ہیں، دلت اور قبائلیوں کے ساتھ بدترین سلوک ہوتا ہے،طلبہ کی خودکشی اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کا واقعہ سب کے سامنے ہے لیکن یہاں انسانی حقوق کی تنظیموں کی رسائی نہیں ہے، بھارت میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے بہت سے واقعات ریکارڈ پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ڈھائی ماہ سے ظلم و ستم جاری ہے، بھارت کشمیر کی صورتحال کوکنٹرول نہیں کر پارہا، آر ایس ایس دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم بن گئی ہے اور بھارت میں ہندو ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اڑی حملہ تو دور کی بات امریکا میں حملے کا الزام بھی بھارت پاکستان پر ڈال دیتا ہے

یہ بھی پڑھیں

ساحلی علاقے صوبائی حکومت کے زیر انتظام لانے کا فیصلہ

ساحلی علاقے صوبائی حکومت کے زیر انتظام لانے کا فیصلہ

کراچی: قانونی مسودے کی سندھ اسمبلی سے منظوری کے بعد کراچی کے تمام ساحل سندھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے