دائیں بازوں, کے, انتہاپسند, پر عدالت میں, پیشی کے, بعد قتل کا, الزام, عائد

دائیں بازوں کے انتہاپسند پر عدالت میں پیشی کے بعد قتل کا الزام عائد

نیوزی لینڈ: آسٹریلوی نژاد 28 سالہ برینٹن ٹیرنٹ ہتھکڑی لگائے سفید قیدیوں کے لباس میں عدالت میں موجود تھا، جہاں جج کی جانب سے اس کے خلاف قتل کا الزام پڑھ کر سنایا گیا جبکہ ملزم کے خلاف مزید الزامات کا بھی امکان ہے

سابق فٹنس انسٹرکٹر کے خلاف سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں میڈیا موجود تھی لیکن سیکیورٹی وجوہات کے باعث عوام کو اس سے دور رکھا گیا تھا۔
مسلح پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں برینٹن ٹیرنٹ اوپر نیچے ’اوکے‘ کا اشارہ کرتا رہا، جو دنیا بھر میں سفید فارم گروپس کی جانب سے علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
حملہ آور کی جانب سے ضمانت کی کوئی درخواست نہیں کی گئی اور وہ 5 اپریل کی اگلی سماعت تک حراست میں رہے گا۔
اس کے علاوہ 2 مزید افراد بھی حراست میں ہیں، اگرچہ ان کا حملے سے تعلق واضح نہیں لیکن 18 سالہ ایک شخص ڈینیل بررو پر اکسانے کا الزام لگایا گیا ہے، ساتھ ہی ایک اور شخص جسے پہلے گرفتار کیا گیا تھا وہ عام آدمی تھا جو آتشی اسلحہ لے کر مدد کے لیے آیا تھا۔
اس واقعے میں زخمی ہونے والے 39 افراد کا گولی سے آنے والے زخم اور دیگر زخموں کا علاج کیا جارہا ہے جبکہ زخمیوں میں 2 سالہ لڑکا اور 4 سالہ لڑکی بھی شامل ہے، جن کی حالت تشویش ناک ہے۔
کرائسٹ چرچ ہسپتال کے ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ وہ رات بھر 12 آپریشن تھیٹر میں کام کرتے رہے تاکہ زخمیوں کو بچایا جاسکے۔
بہت سے لوگوں کے لیے بحالی میں مختلف سرجیکل طریقہ کار کی ضرورت ہوگی جبکہ بہت سے بچ جانے والوں کا کہنا ہے کہ ذہنی چوٹ کبھی پوری نہیں ہوسکتی۔
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے النور اور لنووڈ مساجد پر حملے کو دہشت گردی قرار دیا تھا اور ان کے خیال میں یہ جدید دور میں مغرب میں مسلمانوں کے خلاف بدترین حملہ ہے۔
جیسنڈا آرڈن کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد مسلم دنیا سے ہیں اور ترکی، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ملائیشیا ان ممالک میں ہیں جنہیں قونصلر رسائی دی جارہی ہے۔
عدالت کے باہر موجود 71 سالہ متاثرہ افغان شخص کے بیٹے داؤد نبی نے اپنے مرحوم والد کے لیے اںصاف کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ سمجھتے تھے کہ نیوزی لینڈ ’جنت کا ٹکڑا‘ ہوگا۔
اس کے علاوہ مرنے والوں میں ایک سعودی شہری اور 2 اردن کے شہری بھی شامل ہیں جبکہ 5 پاکستای شہری لاپتہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

جرمنی کی, حکومت ایران کے, ساتھ بحران میں ثالثی, کا کردار, ادا کرنا, چاہتی ہے

جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے

برلن: جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے