بچہ بمشکل, ہی, کوئی ڈگری, حاصل, کر سکے

بچہ بمشکل ہی کوئی ڈگری حاصل کر سکے

سوئٹزر لینڈ کے پیٹنٹ آفس میں ایک کلرک کی معمولی نوکری کرتے ہوئے نہایت خاموشی اور غیر محسوس انداز میں البرٹ آئن اسٹائن نے جو تحقیقات سرانجام دیں وہ نہ صرف مستقبل میں انقلاب لانے کا سبب بنیں بلکہ انہیں بلاشبہ صدیوں پہلے شروع کی جانے والی سائنسدانوں اور ماہرین ریاضیات کی کوششوں کا تسلسل کہا جاسکتا ہے

اسکول میں اوسط درجے کے بچوں میں شمار ہونے کے باوجود آئن اسٹائن کی ریاضی میں دلچسپی اور رجحان غیر معمولی تھا، حالانکہ عام طور پر نوٹ کیا جاتا ہے کہ ریاضی یا طبیعات میں غیر معمولی ذہین بچے ہی دلچسپی لیتے ہیں مگر آئن اسٹائن کا شمار ذہین طلبا میں نہیں کیا جاتا تھا اور اس کے اساتذہ زیادہ تر اس سے نالاں رہا کرتے تھے، جب وہ لیکچر کے دوران کسی قانون کو "وژولائز” کر کے اسے بنیاد سے سمجھنے کی کوشش کررہا ہوتا تو اس کے اساتذہ اسے غائب دماغی سمجھ کر اسے کلاس سے باہر نکال دیا کرتے اور اگلے روز اس کے والد کو شکایت بھیج دی جاتی۔
مگر آئن اسٹائن کے ساتھ مسئلہ محض اس کے ناتجربہ کار اور اکھڑ مزاج اساتذہ ہی نہ تھے اس کے والد ہرمن آئن اسٹائن بھی کبھی اپنے بیٹے کی صلاحیتوں کو پوری طرح سمجھ نہیں سکے اور وہ اسے اپنی طرح بزنس مین بنانے پر بضد رہے۔

ہرمن آئن اسٹائن بھی آج کے مادی دور میں جینے والے دیگر افراد کی طرح ہی سوچتے تھے، جہاں زندگی کا اولین مقصد زیادہ سے زیادہ مادی اشیا اور دنیاوی فوائد کا حصول ہے، اسی وجہ سے طلبا کی بڑی تعداد اپنے لیے ایسے مضامین کا انتخاب کرتی ہے جو سماجی، معاشرتی یا حکومتی امور سے متعلق ہوں اور جن کے بارے میں ان کے والدین کا خیال ہے کہ یہ زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔

آئن اسٹائن نے اپنی زندگی کے کئی قیمتی برس اس استدلال پر گزارے کہ ہماری درسگاہوں کو اس امر سے پوری طرح واقف ہونا چاہیے کہ وہاں تعلیم پانے والے بچے یا نوجوان کس طرح کے ماحول میں جینے اور سیکھنے کے خواہش مند ہیں۔
مقناطیسی فیلڈ میں کار فرما مخفی قوت کشش ہو یا اجرام فلکی کی مضبوط کشش ثقل، اشیا کا جمود ہو یا گردشی اثر، روشنی کی شعائیں ہوں یا ثقلی موجیں، ہر شے انہیں اپنے سحر میں جکڑتی گئیں اور وہ قدرت کی جانب سے عطا کردہ صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے تمام گتھیاں سلجھاتے رہے۔

البرٹ آئن اسٹائن کا وجدان اور اشیا کی گہرائیوں میں اتر جانے کی صلاحیت انتہائی غیر معمولی تھی، اگر کوئی سوچ یا خیال اچانک ذہن میں وارد ہوکر انہیں بہت زیادہ متاثر کرتا تو وہ اسے بار بار دوہرایا کر تے تھے، اسکول کے زمانے سے وہ بول کر سوچنے کے علاوہ اپنے خیالات کو تصویر کی صورت میں بھی سوچتے، اس حوالے سے آسمانی بجلی کا چلتی ہوئی ٹرین سے ٹکراؤ اور نیچے کی طرف آتی ہوئی متحرک لفٹ سے گریویٹی کے تجربات پر ان کے موازنے قدرت کی جانب سے عطا کردہ ان کے گہرے وجدان کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
آئن اسٹائن کی طرح اسٹیفن ہاکنگ بھی بچپن سے ایک کم گو اور ذات میں گم رہنے والا بچہ تھا جو بولنے سے زیادہ غور و فکر کو ترجیح دیتا تھا، مگر اس میں سیلف کانفیڈنس کی شدید کمی تھی، یہاں تک کہ جب انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں داخلے کے لیے اپلائی کیا تو صحیح طرح تحریری امتحان بھی نہیں دے سکے تھے، مگر قدرت ہمیشہ ہاکنگ کی مدد اور راہنمائی کرتی رہی کیوں کہ انہیں آگے بڑھ کر دنیا بھر میں بسنے والے لاکھوں معذور اور کروڑوں صحت مند افراد کے لیے مشعل راہ بننا تھا۔
اسٹیفن ہاکنگ اور آئن اسٹائن درد مند دل رکھنے والے 2 ایسے باکمال انسان تھے جنھوں نے اپنی زندگیاں انسانیت کی فلاح اور علوم کی ترویج میں گزاریں، اگرچہ ایک طبقے کی جانب سے اسٹیفن ہاکنگ کے بارے میں شدید اعتراضات بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ انہیں غیر معمولی شہرت اپنی معذوری کے باعث حاصل ہوئی مگر یہ معاشرے کا محض ایک طبقہ ہے جو ہر کام میں ٹانگ اڑانا اور غیر ضروری تنقید کو اپنا فرض سمجھتا ہے۔
آئن اسٹائن ،ایڈیسن، ،ٹیسیو کاوسکی (فادر آف ماڈرن ایسٹراناٹکس) یہ تمام زندگی کے کسی نہ کسی دور میں عوارض کا شکار رہے مگر آج جو ایک عالم ان کی صلاحیتوں کا معترف ہے تو وہ ان کی معذوری پر ترس، رحم یا ہمدردی نہیں بلکہ یہ افراد واقعی اس عزت اور اعلیٰ مقام کے لائق بھی تھے۔
14 مارچ 2018 کو جب دنیا بھر کی سائنس کمیونٹی آئن اسٹائن کی 141ویں سالگرہ منانے کی تیاریوں میں مصروف تھی تب علی الصبح اسٹیفن ہاکنگ کی وفات کی خبر ایک عالم کو اداس کر گئی، کیونکہ اسٹیفن ہاکنگ صرف سائنس کمیونٹی ہی نہیں معذور افراد اور ہر با شعور انسان کے لیے محبوب اور قابل ستائش تھے۔
آج کے دن میں ایک بات مشترکہ ہوگی کہ ایک ہی دن پر دنیا بھر کے لوگ 2 عظیم لوگوں کے ذکر میں مصروف رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

صحتمند دل, کے, لیے ناشتہ, ایک آسان, حل ہے

صحتمند دل کے لیے ناشتہ ایک آسان حل ہے

ماہرین نے لکھا کہ ان کی معلومات کے مطابق یہ ناشتہ چھوڑنے اور دل کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے